۱؎ اپنے گھر سے مراد اپنے رہنے کا گھر ہے خواہ ملیتا سے ہو یا کرایہ سے اور خواہ عارضی ہو یا دائمی،لہذا جو شخص سرائے کے کسی حجرے میں مع بال بچوں یا دوستوں کے شب بھر کے لیے مقیم ہو وہ بھی داخل ہوتے وقت یہ عمل کرے۔
۲؎ شیخ عبداﷲ نے اشعۃ اللمعات میں بیان فرمایا کہ اگر گھرمیں لوگ ہوں تو انہیں سلام کرے،اگر خالی ہو تو فرشتوں کو سلام کی نیت سے یہ کہے السلام علی عبادہ الصالحین۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خالی گھر میں جاتے وقت حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو سلام عرض کرے۔(از شفاء شریف)ابواؤد شریف کی روایت میں ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت کہے بسم اﷲ والسلام علٰی رسول اﷲ۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "جاء الحق" جلد اول میں ملاحظہ کیجئے۔