۱؎ وعثاء و عثٌ سے بنا بمعنی نقصان یا وہ مشقت جو رب کے ذکر اور آخرت کی فکر سے روک دے،چونکہ سفر گوسفر یعنی دوزخ کا ٹکڑا ہے اس کے لیے یہ دعا فرماتے۔
۲؎ اس طرح کہ جب گھر لوٹوں تو کوئی نقصان دہ چیز نہ دیکھوں،اسی طرح جب سفر دنیا سے وطن آخرت کی طرف واپس جاؤں تو کوئی مصیبت نہ اٹھاؤں،اس دعا میں اس آیت کی طرف اشارہ ہے"وَسَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ"۔
۳؎ کور عمامہ کے پیچ کو کہتے ہیں اور حور اس پیچ کا کھل جانا یعنی زیادتی کے بعد نقصان،اصلاح کے بعد فساد،جمع ہونے کے بعد بکھرنا،جماعت میں ہونے کے بعد الگ ہوجانا،آرام کے بعد تکلیف،بھلائی کے بعد برائی،ثابت قدمی کے بعد بدل جانا ان سب سے تیری پناہ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ"اور فرماتا ہے:"یُکَوِّرُ الَّیۡلَ عَلَی النَّہَارِ"۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ ترقی کے بعد تنزل،توبہ کے بعد گناہ،ذکر کے بعد غفلت،حاضری کے بعد غائب ہوجانا ان سب سے پناہ۔ (لمعات،مرقات مع زیادت)
۴؎ چونکہ سفر میں ساتھیوں سے جھگڑے بھی ہوجاتے ہیں،خصوصًا عرب میں پانی پر اور کبھی ان جھگڑوں میں ظلم بھی ہوجاتا ہے اس لیے سفر کے موقعوں پر مظلوم کی بددعا سے خصوصیت سے پناہ مانگی گئی،مظلوم کی بددعا اور قبولیت کے درمیان حجاب نہیں۔