۱؎ یعنی بیت اﷲ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا بدعت ہے سنت نہیں،امام ابوحنیفہ و شافعی و مالک رضی اللہ عنہم کا یہ مذہب ہے،امام احمد کے ہاں ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔مرقات نے فرمایا کہ ان تین اماموں کے ہاں بھی کعبہ دیکھ کر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت ہے،فتح القدیر و مرقات میں بیہقی سے ہے کہ فاروق اعظم فرماتے ہیں کہ جب بیت اﷲ شریف کو دیکھو تو ہاتھ اٹھا کر پڑھو اللھم انت السلام شافعی نے حضرت ابن جریح سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ معظمہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتے اور یہ دعا کرتے تھے"اَللّٰھُمَّ زِدْ ھٰذَا الْبَیْتَ تَشْرِیْفًا وَّ تَعْظِیْمًا"الٰہی اس گھر کی عزت و شرف اور بڑھادے،بیہقی نے بھی اس کی مثل روایت کی جب کہ ثبوت و نفی کی روایات میں تعارض ہوا تو ثبوت کی روایت کو ترجیح ہوگئی،نفی کرنے والوں کو اس کی خبر نہ ہوئی یا یوں کہو کہ اول نظر پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگے پھر جب بھی کعبہ نظر آئے بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرے،اس طرح دونوں روایتیں جمع ہیں۔بہرحال ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ممنوع نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہے۔(مرقات)