Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
187 - 671
حدیث نمبر187
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ روانہ ہوئے حج کے سواء کسی چیز کا خیال بھی نہ کرتے تھے ۱؎ جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں کپڑوں سے ہوگئی ۲؎ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم آئے تو میں رو رہی تھی فرمایا شاید تم مہینے سے ہوگئی میں نے عرض کیا ہاں ۳؎ فرمایا کہ یہ تو وہ شے ہے جو اﷲ تعالٰی نے عورتوں پر مقرر فرمادی۴؎ جو کچھ حجاج کریں تم بھی کرو بجز اس کے کہ طواف بیت اﷲ نہ کرنا حتی کہ پاک ہوجاؤ ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ کیونکہ صدیوں سے اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ شوال سے محرم تک عمرہ جائز نہیں یہ حج کے مہینے ہیں،ہم بھی یہ ہی خیال لیے ہوئے حج کو گئے تھے مگر یہ فرمان پچھلی روایت کے خلاف ہے جہاں آپ نے فرمایا تھا کہ میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا،ممکن ہے کہ یہاں عوام کا خیال مرادہو نہ کہ اپنا۔

۲؎ سرف مکہ معظمہ سے چھ میل کے فاصل پر جانب مدینہ منورہ پر ایک مقام ہے،اب مدینہ منورہ کا راستہ بدل چکا ہے سرف نہیں،یہاں حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا مزار ہے۔

۳؎ نفست نون کے فتح سے بمعنی حضت ہے اور نون کے پیش سے ولادت کے خون کے معنی میں آتا ہے،یہاں پہلے معنی میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ سمجھی تھیں کہ ماہواری کی حالت میں عورت حج نہیں کرسکتی کیونکہ طواف حج کا رکن اعلٰی ہے جب وہ ہی نہ ہوسکا تو باقی ارکان بھی ادا نہ ہوسکیں گے اس لیے آپ روئیں کہ اب کیا کروں۔

۴؎ بنات آدم سے ساری عورتیں مراد ہیں جن میں حضرت حوا بھی داخل ہیں کہ انہیں بھی ماہواری آتی تھی،بعض علماء نے فرمایا کہ حضرت مریم کو اور بعض نے کہا فاطمہ زہرا کو بھی ایام نہ آتے تھے،یعنی اے عائشہ اس میں رونے کی کیا بات ہے یہ عارضہ تو ساری عورتوں کو ہوا ہی کرتا ہے۔

ع 		مرگ،انبوہ جشنے دارد

۵؎ کیونکہ طواف مسجد میں ہوتا ہے اور حائضہ عورت مسجد میں جا نہیں سکتی،نیز بعد والی سعی بھی نہیں کرسکتی سعی طواف کے بعد میں چاہیے۔
Flag Counter