Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃالمصابیح جلد چہارم
131 - 671
حدیث نمبر131
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کوئی عور ت ایک دن و رات کا سفر اس کے بغیر نہ کرے  ۱؎ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم ہو ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  اس ممانعت کے حکم سے مہاجرہ اور کفار کی قید سے چھوٹنے والی عورت خارج ہے کہ یہ دونوں عورتیں بغیر محرم اکیلی ہی دارالسلام کی طر ف سفر کرسکتی ہیں بلکہ یہ سفر ان پر واجب ہے،اس کی دلیل وہ حدیث ہے کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قریب ہے کہ عورت اکیلی بصرہ سے بیت اﷲ آئے گی اور بجز رب تعالٰی کے کسی سے خوف نہ کرے گی۔(بخاری)لہذا یہ حدیث نہ تو اس حدیث کے مخالف ہے نہ حکم فقہاء اس حدیث کے خلاف۔(مرقات وغیرہ)

۲؎ محرم کے معنی پہلے بیان کیے گئے کہ جس عورت سے نسبتی و رضاعی رشتہ کی بنا پر نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو لہذا بہنوئی کے ساتھ سالی ،دیور کے ساتھ بھاوج،یوں ہی بالشبہ ہو،موطوہ کی ماں اس داماد کے ساتھ سفر نہیں کرسکتی کہ دیور اور بہنوئی سے نکاح دائمًا حرام نہیں اور بالشبہ موطوہ کی ماں سے اگرچہ ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے مگر وہ محرم نہیں ان سے پردہ  فرض ہے۔خیال رہے کہ یہاں تو ایک دن رات کا ذکر ہوا  اور بعض ر وایات میں دو  دن دو  رات کا ذکر ہے،بعض میں تین دن تین رات کا ذکر ہے۔معلوم ہوا کہ ان احادیث میں حد بندی مقصود نہیں ۔مطلب یہ ہے کہ چھوٹا بڑا کوئی سفر اکیلے نہ کرے یا یہ احکام مختلف حالات میں ہیں،نازک حالات میں ایک دن رات کا سفر بھی اکیلے نہ کرے،بعض نارمل(normal) حالات میں تین دن سے کم کا سفر اکیلے کرسکتی ہے۔
Flag Counter