۱؎ کہ آپ نماز کے اندر اور دعا بعد نماز میں اور اس کے علاوہ اکثر حالات میں یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
۲؎ یہ دعا بہت ہی جامع ہے جس میں دین و دنیا کی ساری نعمتیں مانگی گئی ہیں،رب تعالٰی نے قرآن کریم میں بھی یہ دعا سکھا کر اس کے مانگنے والوں کے متعلق فرمایا:"اُولٰٓئِکَ لَہُمْ نَصِیۡبٌ مِّمَّاکَسَبُوۡا"الایہ۔قرآن شریف میں اس دعا اور استغفار کے بڑے فوائد بیان فرمائے۔مطلب یہ ہے کہ اے ہمارے پالنے والے ہم کو موت سے پہلے والی تمام نعمتیں عطا فرماجیسے صحت،روزی،نیکیوں کی توفیق،دین پر استقامت،حسنِ خاتمہ،علم و عمل وغیر ہ اور آخرت کی تمام نعمتیں بخش جیسے حساب قبر و حشر میں آسانی و کامیابی،اعمال کی قبولیت،جنت اور وہاں کی تمام نعمتیں اور ہم کو دوزخ سے بالکل بچالے کہ وہاں کا عذاب ہم کو بالکل نہ چھوئے یہ نہ ہو کہ سزا پا کر جنت میں جائیں۔حضرت شیخ نے اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ اس کے مانگتے وقت تمام نیکیوں و نعمتوں کا خیال کرلینا چاہیے۔بہتر یہ ہے کہ دنیا کی نعمت سے کمال مصطفوی اور آخرت کی بھلائی سے جمال مصطفوی مراد لے،یعنی ہم کو دنیا میں ان کے کمال کا چھینٹا دے،آخرت میں ان کا جمال دکھا کہ ان میں سب کچھ آگیا۔
۳؎ اسے ابوداؤد،نسائی نے بھی روایت کیا۔حصن حصین شریف میں رَبَّنَا اٰتِنَا ہے اگر اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اٰتِنَا کہے تو بہتر ہے کہ اس میں دونوں روایتوں پر عمل ہے اور اگر فقط رَبَّنَا اٰتِنَا کہے تو بھی ٹھیک ہے کہ قرآن کریم میں یوں ہی ہے۔(ازمرقات)