۱؎ ہم سخی اور جوّاد کا فرق پہلے بیان کرچکے ہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ حقیقی سخی وہ ہے جو غنا پر رب تعالٰی کی رضا کو ترجیح دے۔اس کے تین قرب بیان ہوئے اور ایک دوری،اللہ تعالٰی تو ہر ایک سے قریب ہے لیکن اس سے قریب کوئی کوئی ہے۔شعر
یار نزدیک تراز بمعن است دین عجب ہیں کہ من ازوے دُورم
اس حدیث میں اشارۃً فرمایا گیا کہ سخاوت مال حسن مال یعنی انجام بخیر کا ذریعہ ہے سخی سے مخلوق خود بخود راضی رہتی ہے۔
حکایت: کسی عالم سے پوچھا گیا کہ سخاوت بہتر ہے یا شجاعت فرمایا خدا تعالٰی جسے سخاوت دے اسے شجاعت کی ضرورت ہی نہیں لوگ خود بخود اس کے سامنے چت ہوجائیں گے،چونکہ صدقہ غضب کی آگ بجھاتا ہے اس لیے سخی دوزخ سے دور ہے۔
۲؎ یہاں عابد سے مراد عالم عابدہے جیساکہ جاہل کے مقابلے سے معلوم ہورہا ہے یعنی جوشخص عالم بھی ہو عابد بھی مگر ہو کنجوس کہ نہ زکوۃ دے نہ صدقات واجبہ اداکرے وہ یقینًا سخی جاہل سے بدتر ہوگاکیونکہ وہ عالم حقیقتًا بے عمل ہے بخل بہت سے فسق پیداکردیتا ہے اور سخاوت بہت خوبیوں کا تخم ہے بلکہ وہ عابد بھی کامل نہیں کیونکہ عبادت مالی یعنی زکوۃ وغیرہ ادا نہیں کرتا،صرف جسمانی عبادت ذکروفکر پر قناعت کرتا ہے جس میں کچھ خرچ نہ ہو۔