۱؎ یعنی مجھ سے اس پر بیعت لی کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص خاص احکام پر بھی بیعتیں لی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے۔
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم ان ہی کے لیے خاص تھا ورنہ گرا ہوا کوڑا کسی سے اٹھوا لینا ناجائز نہیں،بعض بزرگوں کے لیے بعض جائز چیزیں ناجائز کردی جاتی ہیں جیسے حضرت علی مرتضٰی کے لیے فاطمہ زہراء کی موجودگی میں دوسرا نکاح اور بعض بزرگوں کے لیے کچھ ناجائز چیزیں جائز کردی جاتی ہیں جیسے صدیق اکبر کے لیے بحالت جنابت مسجد سے گزرنا،بعض نے فرمایا کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مبالغۃً ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی معلوم ہوتی ہے۔