| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی اﷲ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق کہ بعض لوگ اپنی جانوں پر ظالم ہیں اور بعض میانہ رو ہیں اور بعض بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے ہیں۱؎ حضور نے فرمایا یہ سب جنتی ہیں ۲؎(بیہقی،کتاب البعث و النشور)
شرح
۱؎ اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کی تین جماعتوں کا ذکر فرمایا،ظالمین،میانہ رویں،سابقین ظالمین وہ جن کے گناہ نیکیوں پرغالب ہوں،میانہ رو وہ جن کے دونوں عمل برابر ہوں سابقین وہ جن کی نیکیاں گناہوں پر غالب ہوں۔یا نیکیوں نے گناہ مٹادیئے ہوں،ان تین کلمات کی اور بھی شرحیں کی گئی ہیں۔ ۲؎ اس طرح کہ سابقین تو بغیر حساب جنتی ہیں اور مقتصدین حساب یسیر کے بعد جنتی،اور ظالمین یا تو صرف سخت حساب کے بعد یا کچھ سزا پا کر جنتی میں بیہقی اور ابن مردویہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مرفوعًا روایت کی کہ سابق تو سابق ہیں ہی اور مقتصد ناجی ہیں اور ظالم مغفور۔امام جعفر صادق فرماتے ہیں کہ رب تعالٰی نے ان تینوں فرقوں کو عبادنا فرمایا اپنے فضل و کرم سے اﷲ تعالٰی اپنے سابقین بندوں کے طفیل سے ہم ظالمین پر رحم فرمائے،ہمارے گناہ معاف کرے۔
آمین آمین یا رب العلمین ! بجاہ نبی الکریم وصلی اﷲ تعالٰی علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد والہ وصحبہ وسلم آمین یارب العلمین
الحمدﷲ الکریم کہ مرآت شرح مشکوٰۃ جلد سوم ۱۶ جمادی الاوّل ۱۳۷۹ھ مطابق ۱۶ نومبر ۱۹۵۹ء یوم دو شنبہ کو شرو ع ہو کر آج ۲۲ ربیع الاول ۱۳۸۰ھ مطابق ۱۵ ستمبر ۱۹۶۰ء پنجشنبہ کو ختم ہوئی۔جو اس سے فائدہ اٹھائے وہ مجھ گنہگار کے لیے دعائے مغفرت و قبولیت فرمائے رب تعالٰی اسے جزاء خیر دیگا۔
نا چیز احمد یار خاں نعیمی اشرفی،مقیم گجرات،پاکستان