| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ثوبان سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ حضور نے فرمایا کہ بندہ اﷲ کی رضا تلاش کرتا رہتا ہے اسی جستجو میں رہتا ہے۱؎ اﷲ تعالٰی حضرت جبریل سے فرماتا ہے کہ فلاں میرا بندہ مجھے راضی کرنا چاہتا ہے مطلع رہو کہ اس پر میری رحمت ہے۲؎ تب حضرت جبرائیل کہتے ہیں فلاں پراﷲ کی رحمت ہے،یہ ہی بات حاملین عرش فرشتے کہتے ہیں یہ ہی ان کے اردگرد کے فرشتے کہتے ہیں حتی کہ ساتویں آسمان والے یہ کہنے لگتے ہیں۳؎ پھر یہ رحمت اس کے لیے زمین پر نازل ہوتی ہے۴؎(احمد)
شرح
۱؎ اس طرح کہ اپنے دینی و دنیاوی کاموں سے رب تعالٰی کی رضا چاہتا ہے کہ کھاتا پیتا،سوتا جاگتا بھی ہے تو رضائے الٰہی کیلئے نماز و روزہ تو بہت ہی دور ہے خدا تعالٰی اس کی توفیق نصیب کرے۔ ۲؎ یعنی اس پر میری کامل رحمت ہے اس طرح کہ میں اس سے راضی ہوگیا۔خیال رہے کہ اﷲ کی رضا تمام نعمتوں سے اعلی نعمت ہے،جب رب تعالٰی بندے سے راضی ہوگیا تو کونین بندے کے ہوگئے،رب تعالٰی فرماتاہے:"رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَ رَضُوۡا عَنْہُ"پھر بندے پر وہ وقت آتا ہے کہ رب تعالٰی بندے کو راضی کرتا ہے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے متعلق فرماتاہے"ولسوف یرضی"اﷲ تعالٰی صدیق کو اتنا دے گا کہ وہ راضی ہوجائیں گے۔ ۳؎ غرضکہ آسمانوں میں اس کے نام کی دھوم مچ جاتی،شور مچ جاتا ہے کہ رحمۃ اﷲ علیہ یہ کلمہ دعائیہ ہے،یعنی اﷲ تعالٰی اس پر رحمت کرے،یہ دعا یا تو فرشتوں کی محبت کی وجہ سے ہوتی ہے یا خود وہ فرشتے اپنے قرب الٰہی بڑھانے کے لیے یہ دعائیں دیتے ہیں اچھوں کی دعائیں دینا قرب الٰہی کا ذریعہ ہے جیسے ہمارا درود شریف پڑھنا۔شعر قلب کی حالت غنچہ بستہ اس کوکرم سےکردوشگفتہ دے دعائیں حافظ خستہ صلی اللہ علیہ وسلم ۴؎ اس طرح کہ قدرتی طور پر انسانوں کے منہ سے اس کے لیے نکلنے لگتا ہے رحمۃ اﷲ علیہ یا رضی اﷲ عنہ اور لوگوں کے دل خود بخود اس کی طرف کھنچنے لگتے ہیں،دلوں کی قدرتی کشش محبوبیت الٰہی کی دلیل ہے۔دیکھئے حضور غوث پاک خواجہ اجمیری جسے بزرگوں کو ہم لوگوں نے دیکھا نہیں مگر سب کو ان سے دلی محبت ہے۔مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جب اﷲ تعالٰی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل سے فرماتا ہے میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو،حضرت جبریل آسمانوں میں اعلان کردیتے ہیں کہ فلاں سے اﷲ تعالٰی محبت کرتا ہے،آپ سب بھی اس سے محبت کریں،چنانچہ تمام فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر زمین میں اس کی مقبولیت پھیلادی جاتی ہے،یہ حدیث اس کے قریب قریب ہی ہے یہ غیبی وقدرت محبت ہے۔