۱؎ اس میں رب تعالٰی کی انتہائی رحمت و عذاب کا ذکر ہے یعنی اس قدر بیان کرنے کے باوجود اﷲ تعالٰی کی وسعت رحمت و عذاب کسی کے خیال میں نہیں آسکتی،اگر ان کی حقیقت معلوم ہوجائے تو عذاب دیکھ کر مومن کی آس ٹوٹ جائے اور اس کی رحمت میں غور کرکے کافر کے یاس جاتی رہے۔خلاصہ یہ ہے کہ نیک کار کو بھولنا نہ چاہئیے کیونکہ اﷲ جباروقہار ہے اور گنہگار کو مایوس نہ ہونا چاہئیے کیونکہ اﷲ ستار و غفار ہے۔حضرت عمر فرماتے ہیں اگر قیامت میں رب اعلان فرمائے کہ صر ف ایک ہی بندہ جنتی ہے تو مجھے امید ہوکہ شائد میں ہی ہوں گا اور اگر اعلان ہوجائے کہ صرف ایک ہی بندہ دوزخی ہے تو مجھے خطرہ ہوگا کہ وہ میں ہی ہوں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ بندہ پر زندگی میں خوف غالب چاہئیے اور مرتے وقت امید۔