| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عبید اﷲ ابن عدی ابن خیار سے فرماتے ہیں کہ مجھے دو شخصوں نے خبر دی کہ وہ دونوں نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ حجۃ الوداع میں تھے صدقہ تقسیم فرمارہے تھے ۱؎ انہوں نے بھی حضور سے صدقہ مانگا تو حضور نے ہم پر نظر اٹھائی پھر جھکائی ہم کو تندرست و توانا دیکھا تو فرمایا کہ اگر تم چاہو تو تم کو دے دوں مگر اس میں نہ تو غنی کا حصہ ہے نہ کمائی کے لائق تندرست کا ۲؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ صدقہ فرض یعنی زکوۃ ہوگا اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حجاج نے اپنی زکوۃ تقسیم کے لیے پیش کی ہوگی جیساکہ صحابہ کا دستور تھا،آج بھی مسلمان اپنے صدقات حرمین شریفین جانے والوں کو دے دیتے ہیں کہ وہاں تقسیم کردینا اسی عمل کا ماخذ یہ حدیث ہے،اہلِ حرمین جیران رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور وہاں صدقہ کا ثواب ایک کا ایک لاکھ تک ہے اس لیے یہ عمل کرتے ہیں،یہ اس حدیث کے خلاف نہیں کہ قوم کا صدقہ یا کسی شہر کا صدقہ اسی قوم و شہر میں خرچ کیا جائے کہ وہاں مقصد یہ ہے کہ سب صدقہ باہر یا دوسری قوم میں نہ بھیج دو اور اس شہر یا قوم کو بالکل محروم نہ کردو۔ ۲؎ اس میں دونوں کو تقویٰ و طہارت کی تعلیم ہے یعنی چونکہ تم دونوں اگرچہ فقیر ہو مگر تندرست اور کمانے کے لائق ہو اس لیے اس سے لینا تمہارے لائق نہیں اگر ان کو یہ صدقہ لینا حرام ہوتا جیسا کہ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ فرماتے کہ اگر تم چاہو تو تم کو دے دوں،اس اختیار دینے سے معلوم ہورہا ہے کہ دینا جائز تو ہے مگر بہتر نہیں۔