۱؎ یہ حدیث حضرت امام شافعی کی دلیل ہے،ان کے ہاں تندرست اور کمانے کی قدرت رکھنے والا زکوۃ نہیں لے سکتا اگرچہ فقیر ہو،امام اعظم کے ہاں لے سکتا ہے،امام اعظم کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے "لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ"الایہ۔اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل کہ سرکار اصحاب صفہ کو جو ستر تھے اور سب کمانے پر قادر تھے مگر انہوں نے اپنے کو علم دین سیکھنے کے لیے وقف کردیا زکوۃ دیتے تھے، اس کا ذکراسی آیت مذکورہ میں ہے یہ حدیث اس آیت اس عمل سے منسوخ ہے یا یہاں لَایَحِلُّ کے معنے ہیں لائق نہیں،یعنی غنی کو صدقہ لینا لائق نہیں حرام ہے اور تندرست فقیر کو لائق نہیں۔(غیر مناسب ہے)یا صدقہ سے مراد بھیک مانگنا ہےجیسا کہ اگلے باب کی احادیث سے ثابت ہے،وہ احادیث اس حدیث کی شرح ہیں امام اعظم کا مذہب قوی ہےکیونکہ رب تعالٰی نے زکوۃ کے جو آٹھ مصرف بیان فرمائے"اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ"الایہ۔ان میں مجبور بیمار یا تندرست کی قید نہ لگائی۔معلوم ہوا کہ ہر فقیر تندرست یا بیمار زکوۃ لے سکتا ہے۔