Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
56 - 5479
حدیث نمبر 56
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکین وہ نہیں جو لوگوں پر چکر لگاتا پھرے اسے ایک دو لقمے یا ایک دو چھوہارے لوٹادیں لیکن مسکین وہ ہے جو غنا بھی نہ پائے جس کو لوگوں سے لاپرواہ ہوجائے اور اسے پہچانا بھی نہ جائے تاکہ اسے صدقہ دیدیا جائے اور نہ اٹھ کر لوگوں سے سوال کرے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  یعنی جس مسکینیت پر ثواب ہے اور صابروں کے زمرہ میں داخل ہے وہ یہ بھکاری فقیر نہیں ہے بلکہ یہ تو عام حالات میں اسی سوال پر گنہگار ہےکہ جب وہ بھیک مانگنےکے لئے اتنی دوڑ دھوپ کرسکتا ہے تو وہ کمانے کے لیے بھی کرسکتا ہے،ہاں صابر وہ مسکین ہے  جو  حاجتمند ہو مگر  پھر کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہ کرے،اپنے فقر کو چھپانے کی کوشش کرے،اسی مسکین کی رب تعالٰی نے قرآن پاک میں تعریف فرمائی ہے کہ فرمایا:"لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ"الآیۃ۔یہ خیال رہے کہ جس مسکینیت کی  دعا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہے وہ مسکینیت دل ہے یعنی دل میں عجز وانکسار ہونا،تکبر وغرور  نہ ہونا،ایسا شخص اگر مالدار بھی ہو تو مبارک مسکین ہےاور جن احادیث میں فقر و مسکینیت سے پناہ مانگی گئی ہے وہ ایسی تنگدستی ہے جو فتنہ میں مبتلا کردے لہذا  احادیث میں تعارض نہیں اور  نہ  یہ  اعتراض  ہے  کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تومسکینیت کی دعا کی مگر رب تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بادشاہ بنادیا یہ دعا قبول نہ ہوئی۔
Flag Counter