| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکین وہ نہیں جو لوگوں پر چکر لگاتا پھرے اسے ایک دو لقمے یا ایک دو چھوہارے لوٹادیں لیکن مسکین وہ ہے جو غنا بھی نہ پائے جس کو لوگوں سے لاپرواہ ہوجائے اور اسے پہچانا بھی نہ جائے تاکہ اسے صدقہ دیدیا جائے اور نہ اٹھ کر لوگوں سے سوال کرے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی جس مسکینیت پر ثواب ہے اور صابروں کے زمرہ میں داخل ہے وہ یہ بھکاری فقیر نہیں ہے بلکہ یہ تو عام حالات میں اسی سوال پر گنہگار ہےکہ جب وہ بھیک مانگنےکے لئے اتنی دوڑ دھوپ کرسکتا ہے تو وہ کمانے کے لیے بھی کرسکتا ہے،ہاں صابر وہ مسکین ہے جو حاجتمند ہو مگر پھر کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہ کرے،اپنے فقر کو چھپانے کی کوشش کرے،اسی مسکین کی رب تعالٰی نے قرآن پاک میں تعریف فرمائی ہے کہ فرمایا:"لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیۡنَ اُحۡصِرُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ"الآیۃ۔یہ خیال رہے کہ جس مسکینیت کی دعا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگی ہے وہ مسکینیت دل ہے یعنی دل میں عجز وانکسار ہونا،تکبر وغرور نہ ہونا،ایسا شخص اگر مالدار بھی ہو تو مبارک مسکین ہےاور جن احادیث میں فقر و مسکینیت سے پناہ مانگی گئی ہے وہ ایسی تنگدستی ہے جو فتنہ میں مبتلا کردے لہذا احادیث میں تعارض نہیں اور نہ یہ اعتراض ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تومسکینیت کی دعا کی مگر رب تعالٰی نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو بادشاہ بنادیا یہ دعا قبول نہ ہوئی۔