Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
55 - 5479
حدیث نمبر 55
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر مجھے پائے(یعنی گائے بکری کے کُھر وغیرہ)کی طرف دعوت دی جائے تو قبول کرلوں گا اور اگر مجھے دستی دی جائے تو منظور فرمالوں گا ۱؎
شرح
۱؎  یعنی ہم کو معمولی آدمی کی دعوت اور معمولی ہدیہ قبول فرمانے میں عار نہیں ضرور قبول فرمائیں گے،اس میں مالداروں بلکہ بادشاہوں کو تعلیم ہے کہ غریبوں اور اپنے نوکروں کے حقیر ہدیوں کو نہ ٹھکراؤ ان کے اخلاص کی قدر کرو اور ہم غریبوں کی ہمت افزائی ہے کہ جس قدر ہوسکے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالی میں مال و اعمال کے ثوابوں کا ہدیہ کرتے رہیں۔یہاں کراع سے مراد کُھرے(گائے بکری کے پائے)ہیں نہ کہ کراع العمیم منزل جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی فقیر صدقہ کا معمولی مال بھی لے کر ہماری دعوت کردے تو ہم قبول فرمالیں گے کیونکہ صدقہ اس پر ختم ہوچکا اسی لئے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔
Flag Counter