۱؎ یعنی ہم کو معمولی آدمی کی دعوت اور معمولی ہدیہ قبول فرمانے میں عار نہیں ضرور قبول فرمائیں گے،اس میں مالداروں بلکہ بادشاہوں کو تعلیم ہے کہ غریبوں اور اپنے نوکروں کے حقیر ہدیوں کو نہ ٹھکراؤ ان کے اخلاص کی قدر کرو اور ہم غریبوں کی ہمت افزائی ہے کہ جس قدر ہوسکے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالی میں مال و اعمال کے ثوابوں کا ہدیہ کرتے رہیں۔یہاں کراع سے مراد کُھرے(گائے بکری کے پائے)ہیں نہ کہ کراع العمیم منزل جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی فقیر صدقہ کا معمولی مال بھی لے کر ہماری دعوت کردے تو ہم قبول فرمالیں گے کیونکہ صدقہ اس پر ختم ہوچکا اسی لئے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی۔