Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
556 - 5479
حدیث نمبر 556
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب بندہ توبہ کرتا ہے تو اﷲ تعالٰی اس کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے ۱؎ جس کی سواری پٹپر زمین میں ہو وہ سواری بھاگ جائے اس پر اس کا کھانا پانی ہو یہ اس سواری سے مایوس ہوکرکسی درخت تک پہنچے اپنی سواری سے مایوس ہوکر درخت کے سایہ میں لیٹ رہے وہ اس حال میں ہو کہ ناگاہ اس کی سواری اس کے پاس آکھڑی ہو وہ اس کی مہار پکڑے ۲؎ پھر انتہائی خوشی میں یوں کہہ بیٹھے الٰہی تو میرا بندہ اور میں تیرا رب بہت خوشی سے بندہ خطا کر گیا ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ ایسے مقامات پر خوشی سے مراد رضاء ہوتی ہے کیونکہ اصطلاحی فرحت و خوشی سے رب تعالٰی پاک ہے۔خیال رہے کہ رضاء اور ہے امراور مگر ارادہ کچھ اور اﷲ تعالٰی ہر بندے کے ایمان و شکر سے راضی ہے۔فرماتاہے: "اِنۡ تَشْکُرُوۡا یَرْضَہُ لَکُمْ"اور ہرشخص کو اس نے ایمان کا حکم بھی دیا ہے کہ فرمایا:"اٰمِنُوۡابِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ"لیکن ہرشخص کے ایمان کا ارادہ نہیں کیا ورنہ دنیا میں کوئی کافر نہ ہوتا،بعض کے کفر کا ارادہ کیا ہے اور بعض کے ایمان کا۔ان ارادوں میں صدہا حکمتیں ہیں جو علمِ کلام  میں  مذکور  ہیں  ،دیکھو ذبح  اسمعیل (علیہ الصلوۃ والسلام)کا حکم  تھا   ارادہ   نہ تھا۔یہاں اس کی رضاء کا ذکر ہے نہ کہ ارادے کا۔

۲؎ یعنی جیسے اس شخص کو یاس کے بعد آس سے انتہائی خوشی ہوتی ہے جو بیان میں نہیں آسکتی کیونکہ اس بندے کو یاس بھی(ناامیدی)جان سے ہوچکی تھی ایسے ہی رب تعالٰی کی یہ رضا ہم بیان نہیں کرسکتے،یہ تشبیہ مرکب ہے جس میں پورے واقعہ کو پورے واقعہ سے تشبیہ دی جاتی ہے نہ کہ ہر حال کو ہر حال سے لہذا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ رب تعالٰی مایوس بھی ہوا ہو اور بعد میں اسکی آس بندھی ہو۔مقصد یہ ہے کہ رب تعالٰی ہم پر خود ہم سے زیادہ مہربان ہے جتنی خوشی ہم کو اپنی جان بچنے سے ہوتی ہے اس سے زیادہ خوشی اﷲ تعالٰی کو بندے کے ایمان بچنے سے ہوتی ہے۔

۳؎ یہ کلام بھی انتہائی خوشی بیان فرمانے کے لیے ہے نہ کہ تشبیہ کے لیے کیونکہ رب تعالٰی غلطیوں اور خطا سے پاک ہے یعنی بندہ کی خوشی سے مت کٹ گئی وہ کہنا چاہتا تھا یارب میں تیرا بندہ تو میرا رب لیکن الٹا کہہ گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ خطاءً منہ سے کفر نکل جانے پر بندہ کا فر نہیں ہوتا نہ اس سے اس خطا کار کی بیوی نکاح سے خارج ہوکیونکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پرحکم کفر نہ فرمایا مگر یہ جب ہے جب کہ بندے کو اس خطا پر اطلاع نہ ہو،اطلاع ہونے پر فورًا توبہ کرے،طلاق کا یہ حکم نہیں لہذا اس حدیث سے وہ حضرات دلیل نہیں پکڑسکتے جو کلمہ یوں پڑ ھ لیتے ہیں لا الہ الا اﷲ اشر فعلی رسول اﷲ اور پھر بے اختیار زبان کا بہانہ کردیتے ہیں۔
Flag Counter