۱؎ گناہ کبیرہ سے بچنے کی شرط کمال ثواب اور کمال قبولیت کے لیے ہے یعنی متقی مسلمان کا کلمہ اعلیٰ درجہ کا مقبول ہوتا ہے اور فاسق و فاجر کا کلمہ قبول تو ہوتا ہے لیکن اس درجہ کا نہیں،تمام ذکر مثل کارتو س ہیں اور ذاکر کی زبان مثل رائفل کے کہ شکار واقعی کارتوس کرتا ہے مگر رائفل کی طاقت سے،قلب کا اخلاص گویا بارود ہے کہ شکار گولی سے ہوگا مگر بارود کی امداد سے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ گناہ نیکی کو نہیں مٹاتا بلکہ نیکی گناہوں کو مٹا دیتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔متقی کی نیکی فساق کی نیکی سے افضل ہے بلکہ جیسا عامل کا درجہ ویسا ہی اس کے عمل کا ثواب،صحابہ کا ساڑھے چار سیر جو خیرات کرنا ہمارے پہاڑ بھر سونا خیرات کرنے سے افضل،کیوں ؟ اس لیے کہ وہ عامل افضل ہیں۔