۱؎ یعنی میزان کی نیکی کا پلہ آدھا سبحان اﷲ سے بھردے گا اور آدھا الحمدﷲ سے،یہ دونوں کلمے ملکر اسے پورا بھردیں گے کیونکہ اﷲ کے ذکر دو قسم کے ہیں:تنزیہہ اورتحمید سبحان اﷲ میں تنزیہہ ہے یعنی رب تعالٰی کو سارے عیوب سے پاک جاننا اور الحمدﷲ میں تحمید یعنی اسے تمام کمالات سے موصوف ماننا۔میزان تو ان دو کلموں سے ہی بھرگئی،باقی نیکیاں زیادہ بچیں جن کا ثواب علاوہ ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ ان دو کلموں نے سارے گناہوں کو تو ختم کردیا کہ سب گناہوں کے مقابلہ میں تویہ دو کلمے ہی کافی ہوگئے باقی نیکیاں نفع میں بچیں۔
۲؎ اس میں اشارۃً فرمایا کہ لا الہ الااﷲ ان دو کلموں سے بھی افضل ہے،کیوں نہ ہو کہ یہ ساری تنزیہہ و تحمید کو شامل ہے۔مطلب یہ ہے کہ کلمہ طیبہ بہت جلد قبول ہوتا ہے،براہ راست رب تعالٰی تک پہنچتا ہے جس قدر ہمارا اخلاص زیادہ اسی قدر کلمے کی قبولیت اعلیٰ لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کلمہ تو منافقین بھی پڑھتے تھے تو کیا وہ مقبول بارگاہ تھے۔
۳؎ مرقات نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد واقعی ضعیف ہے مگر چونکہ اس میں حرام و حلال کے احکام مذکور نہیں صرف کلمہ طیبہ کے فضائل کا بیان ہے اس لیے مقبول ہے۔