۱؎ لہذا جو شکر حمد کے بغیر ہو وہ شکر صحیح نہیں جیسے بغیر سر کے جسم درحقیقت جسم ہی نہیں۔
۲؎ بعض صوفیاء فرماتے ہیں کہ شکر کی اصل جگہ دل و اعضاء ظاہری ہیں،دل سے رب کی نعمتوں کا اقرار،اعضاء سے عبادت شکر ہے اور حمد کی اصل جگہ زبان ہے اور دل وغیرہ لوگوں سے مخفی ہیں،زبان لوگوں پر ظاہر اور شکر میں اظہار اصل مقصود ہے اسی لیے حمدکو شکر کا سرقرار دیا گیاکہ مقصدِشکر حمد سے ادا ہوتا ہے۔(مرقات) سبحان اﷲ! نہایت نفیس تحقیق ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ"اپنے رب کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو،یہ ہے کامل شکر اور چرچا زبان سے ہوتا ہے۔