| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو لوگ بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے ۱؎ اس پر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے لوگو اپنی جانوں پر نرمی کرو ۲؎ تم لوگ نہ بہرے کو پکارتے ہو نہ غائب کو تم تو سمیع بصیر کو پکاررہے ہو۳؎ جو تمہارے ساتھ ہے جسے تم پکار رہے ہو وہ تم میں سے ہر ایک کی سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۴؎ ابو موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے تھا اپنے دل میں کہہ رہا تھا لاحول ولا قوۃ الا بااﷲ تو حضور نے فرمایا اے عبداﷲ ابن قیس کیا میں تم کو جنت کے خزانوں میں ایک خزانہ پر رہبری نہ کروں میں نے عرض کیا ہاں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا ولاحول ولا قوۃ الا باﷲ ہے ۵؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اس طرح کہ جوش کے ساتھ تکبیر کے نعرے لگانے لگے نعرہ تکبیر اَﷲُ اَکْبَر یہ نعرے برکت کے لیے تھے نہ کہ کسی خوشی کی وجہ سے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔یہ سفرغزوہ خیبر کا تھا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم مع صحابہ کرام کے خیبر فتح فرمانے تشریف لے جارہے تھےجیساکہ دوسرے مقامات پر اس کی تصریح ہے۔ ۲؎ یہاں شیخ نے لمعات اور اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ اس نعرہ تکبیر سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا منع فرمانا اس لیے نہ تھا کہ ذکر بالجہر منع ہے بلکہ اس لیے تھا کہ صحابہ پر سفرکرتے ہوئے یہ نعرے تکلیف کا باعث تھے اسی لیے فرمایا اپنی جانوں پر نرمی کرو ورنہ بہت موقعہ پر صحابہ کرام بلکہ خود حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم خوب بلند آواز سے ذکر الٰہی کرتے تھے۔چنانچہ جماعتِ نماز کے بعد چیخ کر ذکر کرتے تھے،صحابہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے وعظ کے دوران نعرہ تکبیر لگاتے تھے،نیز اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارادہ یہ تھا کہ خیبر پر ہم اچانک جا پڑیں لوگوں کو اس حملہ کی خبر بھی نہ ہوسکے تاکہ کفار تیاری نہ کرسکیں اور بہت کم خون خرابہ ہو اور خیبر فتح ہوجائے اس نعرہ سے یہ مقصد فوت ہوجاتا۔بہرحال ذکر بالجہر منع کرنے والوں کی یہ حدیث دلیل نہیں بن سکتی۔ذکر بالجہر کی پوری تحقیق ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول میں ملاحظہ فرمائیے۔ ۳؎ یہاں ذکر بالجہر مفید نہیں،رب تعالٰی تو آہستہ ذکر بھی سنتا ہے بلکہ تمہیں نقصان دہ ہے کہ تم اس وقت ذکر سے تھک جاؤ گے اور تمہارا دشمن تمہاری آمد پر مطلع ہوجائے گا اس لیے آہستہ ذکر کرو۔ ۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ اس لیے چیخ کر اﷲ کا ذکر کرنا خدا تعالٰی آہستہ ذکر سن نہیں سکتا منع ہے بلکہ بدعقیدگی ہے۔ذکر بالجہر تو اپنے نفس اور دوسرے غافلوں کو جگانے،شیطان کو بھگانے،درو دیوار کو اپنے ایمان کا گواہ بنانے کے لیے ہوتا ہے مگر اس پر موقعہ پر مضر ہے۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی کے ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس کا علم،قدرت،رحمت قریب ورنہ حق تعالٰی قرب مکانی سے پاک ہے،اس کی تفسیر وہ آیت ہے"اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیۡنَ"۔ ۵؎ یعنی تم جو اپنے دل میں لاحول شریف پڑھ رہے ہو ہم اس پر مطلع ہیں اس کے فضائل سے تم کو اطلاع دیتے ہیں۔خیال رہے کہ لاحول شریف میں انسان اپنی انتہائی بے بسی کا اقرار اور رب تعالٰی کی انتہائی قدرت کا اعتراف کرتا ہے یہ ہی بندگی کا مدار ہے اسی لیے یہ جنت کا خزانہ ہے۔حول کے معنی ہیں ظاہری طاقت،قوۃ کے معنی ہیں باطنی قدرت یا حول سے مراد ہے دفع شر کا حیلہ اور قوت سے مراد ہے خیرحاصل کرنے کا ذریعہ یعنی بندے میں بغیر رب تعالٰی کی مدد کے نہ ظاہری طاقت ہے نہ اندرونی قوت،اس کے بغیرکرم بندہ نہ گناہوں سے بچ سکتا ہے نہ نیکیاں کرسکتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ کی دین،اس کے کرم سے بندہ میں ظاہری باطنی طاقتیں آسکتی ہیں جیساکہ اولیاءوانبیاء کے کرامات و معجزات سے معلوم ہوتا ہے۔حضرت سلیمان نے تین میل سے دور چیونٹی کی آوازسن کر سمجھ لی،حضرت آصف بن برخیا پل بھر میں یمن سے تخت بلقیس لے آئے یہ ربانی طاقتیں رحمانی عطا سے تھیں،بجلی کے بلب،پنکھے،مشین وغیرہ بغیر پاورمحض بیکار ہیں پاور آجائے تو بہت طاقتور ہوجاتے ہیں،بجلی کا تار آدمی کیا ہاتھی کو ہلاک کردیتا ہے۔قرآن کریم میں جو من دون اﷲ کی برائیاں آتی ہیں یہ وہی ہیں جو خدا سے الگ اور دور ہیں،رب تعالٰی نے فرمایا:"وَ وَجَدَ مِنۡ دُوۡنِہِمُ امْرَاَتَیۡنِ تَذُوۡدَانِ"یعنی موسیٰ علیہ السلام نے مردوں سے الگ دور دو عورتوں کو دیکھا جو اپنے جانور پکڑے کھڑی تھیں،دیکھو دون کے معنی الگ یا دور ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کلموں کو خزانہ اسی لیے فرمایا کہ یہ کلمے جنتی نعمتوں کے خزانے ملنے کے سبب ہیں یا اﷲ تعالٰی نے دوسری قوموں سے یہ کلمات ایسے چھپائے تھے جیسے خزانے غیروں میں چھپائے جاتے ہیں۔