| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے تو حضور نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کرلیا کرے ہم نشینوں میں سے کسی نے پوچھا کہ کوئی روزانہ ہزار نیکیاں کیسے کرسکتا ہے ۱؎ فرمایا ایک سو دفعہ سبحان اﷲ پڑھ لیا کرے اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کی ہزار خطائیں معاف کی جائیں گی ۲؎ (مسلم) اس کتاب مسلم میں ابوموسیٰ جھنی سے تمام روایات میں یوں ہے کہ یا معاف کی جائینگی۳؎ ابوبکر برقانی فرماتے ہیں۴؎ کہ اسے شعبہ و ابوعوانہ اور یحیی ابن سعید قطان نے حضرت موسیٰ سے روایت کی ان سب نے ویحط فرمایا الف کے بغیر (کتاب حمیدی میں اسی طرح ہے)۵؎
شرح
۱؎ یعنی مسلسل روزانہ ایک ہزار نیکیاں کرتے رہنا طاقت انسانی سے باہر ہے،یہ عام انسانوں کا حال ہے ورنہ بعض مخصوص بندے تو ہر سانس میں نیکی کرتے ہیں۔ ۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں اَوْ بمعنی واؤ ہے یعنی سو بار سبحان اﷲ پڑھ لینے سے پڑھنے والوں کو ہزار نیکیاں بھی ملیں گی اور اس سے ہزار گناہ بھی معاف ہوں گے اور اگر اَوْ اپنے ہی معنی میں ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ رب تعالٰی کے کرم پرموقوف ہے چاہے تو اسے ہزار نیکیاں دے چاہے اس کے ہزار گناہ معاف کردے۔خطیئتہ سے معلوم ہوا کہ گناہ صغیرہ معاف ہوں گے حقوق العباد اور گناہ کبیرہ کی معافی اس سے نہ ہوگی۔ ۳؎ یعنی مسلم شریف میں حضرت موسیٰ جُہنّی سے بہت سی روایات منقول ہیں ان سب میں اَوْ ہے،یہ موسیٰ جہنی ابن عبداﷲ ہیں،قبیلہ جہنیہ سے ہیں،کوفی ہیں،انہوں نے حضرت مجاہد مصعب ابن سعد سے روایات لیں اور ان سے شعبہ،یحیی ابن سعید قطان نے احادیث نقل کیں۔ ۴؎ آپ ابوبکر احمد ابن محمد خوارزمی برقانی ہیں،برقان خوارزم کی ایک بستی کا نام ہے۔ ۵؎ یعنی ان روایات میں اَوْ نہیں بلکہ واؤ ہے یعنی اس کو ہزار نیکیاں بھی ملتی ہیں اور اس کے ہزار گناہ بھی معاف ہوتے ہیں لیکن اگر پہلی روایت میں اَوْ بمعنی واؤ ہو یا یہاں واؤ تنویع یعنی بیان نوعیت کے لیے ہو تو دونوں روایتوں میں کوئی فرق نہیں اور ہوسکتا ہے کہ پہلی روایت میں رب تعالٰی کے قانون کا ذکر ہو اور اس روایت میں اس کے فضل و کرم کا رب تعالٰی فرماتاہے:"مَنۡ جَآءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا"۔ دوسرے مقام پر فرماتاہے:"وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔