۱؎ سبحان اﷲ! کیسی پیاری فصیح و بلیغ زبان ہے اس پیارے محبوب کی صلی اللہ علیہ و سلم۔خفیفتان، ثقیلتان یعنی بھارے ہلکے،اس میں متضادین کا اجتماع ہے لسان و میزان میں متناسبین کا اجتماع ہے کیونکہ لسان انسانی زبان کو بھی کہتے ہیں اور ترازو کی زبان کو بھی،جو ہاتھ کی مٹھی میں بروقت تولنے کے رہتی ہے،حبیبتان و رحمٰن اس میں ایسی مناسبت ہے کہ سبحان اﷲمحبت و رحمت میں بہت ہی تعلق ہے یعنی یہ دونوں کلمے پڑھنے میں زبان پر بہت آسان ہیں مگر کل قیامت میں ان کا وزن بہت زیادہ ہوگا کیونکہ ہمارے کلام سے رب تعالٰی کا نام وزنی ہے،پھر خوبی یہ کہ رب تعالٰی کو یہ کلمات بڑے پیارے ہیں تو جو ان کا ورد کرے گا وہ بھی پیارا ہوگا اس کی زبان پیاری ہوگی۔
۲؎ یہ دو کلمے رب تعالٰی کی دونوں قسم کی حمدوں کو علیٰ وجہ الکمال جامع ہیں۔عیوب سے پاکی کا مکمل بیان سبحان اﷲ میں ہے اور صفات کمالیہ سے موصوف ہونے کا کامل بیان و بحمدہٖ میں ہے اسی لیے یہ کلمات بہت جامع ہیں اور رب تعالٰی کو پیارے ہیں۔