۱؎ ذوالنون حضرت یونس علیہ السلام کا لقب ہے کیونکہ آپ کچھ روز مچھلی کے پیٹ میں رہے تھے مگر اس کی غذا بن کر نہیں کہ نبی کا جسم تو قبر کی مٹی بھی نہیں کھاتی چہ جائیکہ مچھلی کھائے بلکہ امانت الٰہی بن کر اسی لیے قرآن کریم نے فرمایا:"فَالْتَقَمَہُ الْحُوۡتُ"انہیں مچھلی نے نگل لیا جیسے موتی کو نگل لیتی ہے یہ نہ فرمایا کہ مچھلی نے انہیں کھالیا۔علماء فرماتے ہیں کہ اس مچھلی کا پیٹ عرش اعظم سے افضل ہے کہ ایک پیغمبر کاکچھ دن تجلی گاہ رہا جب مچھلی کا پیٹ عرش اعظم سے افضل ہوگیا تو حضرت آمنہ خاتون رضی اللہ عنہا کا وہ شکم پاک جس میں سید الانبیاءنو ماہ تک جلوہ افروز رہے وہ توعرش سے کہیں افضل ہے اس کی تحقیق ہماری"تفسیرنعیمی" جلد اول میں ملاحظہ فرمائیے۔قیمتی موتی قیمتی ڈبی میں رکھا جاتا ہے۔
۲؎ اس سے بھی اشارۃً معلوم ہوا کہ لا الہ الا انت اسم اعظم ہے اور یہ دعا حضرت یونس علیہ السلام کو رب تعالٰی کی طرف سے القاء ہوئی،اسی دعا کی برکت سے آئی آفتیں ٹل جاتی ہیں،اڑی مشکلیں حل ہوجاتی ہیں۔خیال رہے کہ ظلم کے تین معنے ہیں:کفر و شرک،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ"۔گناہ،خطا بھول چوک یہاں تیسرے معنے مراد ہیں کیونکہ حضرات انبیاء بدعقیدگی و بدعملی سے معصوم و موصؤن ہیں، نیز حضرت یونس علیہ السلام سے اس موقعہ پر صرف خطاء ہی سرزد ہوئی تھی جیساکہ ان کے واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رب تعالٰی نے آپ کو مقام نینویٰ موصل کا نبی کیا۔جب قوم نے آپ کی اطاعت نہ کی تو آپ نے بحکم پروردگار انہیں خبر دی کہ تین دن بعد تم پر عذاب آجائے گا اور آپ نینویٰ سے جو موصل کا ایک شہر ہے بغیر حکم الٰہی آئے روانہ ہوگئے،یہ سمجھ کر کہ عذاب کی جگہ سے پیغمبر کو چلا جانا چاہیے پھر عذاب کا بادل نینویٰ پر چھا گیا،وہاں کے باشندوں نے سچی توبہ کرلی اور آیا ہوا عذاب ٹل گیا تین دن کے بعد آپ نے دور سے اس شہر کو دیکھا تو آباد تھا آپ شہر میں اس لیے نہ آئے کہ میں نے تو انہیں عذاب کی خبر دی تھی اور عذاب آیا نہیں اب میری وہاں بڑی بے عزتی ہوگی اور دوسری جگہ چلے گئے جاتے ہوئے دریا سامنے آیا کشتی میں بیٹھے، درمیان سمندر میں کشتی ٹھہر گئی،ملاحوں نے کہاکہ شاید اس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام ہے جس سے کشتی آگے نہیں چلتی آپ نے فرمایا وہ میں ہی ہوں اور دریا میں چھلانگ لگادی ایک مچھلی منہ پھاڑے بیٹھی تھی وہ آپ کو نگل گئی اور دریائے نیل پھر دجلہ میں ہوتی ہوئی شام کے علاقہ میں جا نکلی وہاں دریا نے آپ کو زمین پر اگل دیا پھر کدو کی بیل نے آپ پر سایہ کیا ہرنی آپ کو دودھ پلاتی رہی مرقات وغیرہ۔
۳؎ کیونکہ رب تعالٰی کا وعدہ ہے کہ فرمایا:"فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَ نَجَّیۡنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُـْۨـجِی الْمُؤْمِنِیۡنَ"یعنی اس دعا کی برکت سے ہم نے انہیں بھی غم سےنجات دی اور تاقیامت مسلمانوں کو بھی اس کی برکت سے نجات دیا کریں گے۔(مرقات)معلوم ہوا کہ بزرگوں کی زبان سے نکلی ہوئی دعاء بہت تاثیر والی ہوتی ہے کیوں نہ ہوکہ الفاظ دعا گولی،زبان رائفل جب دونوں قوتیں جمع ہوجائیں تو شکار یقینی ہے۔