| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲ تعالٰی کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے تمہارا معبود ایک معبود ہے جس کے سواء کوئی معبود نہیں رحم والا مہربان ہے اور سورۂ آل عمران کے شروع میں الم اﷲ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبودنہیں زندہ قائم رکھنے والا ۱؎ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ،دارمی)
شرح
۱؎ اس حدیث کی بناء پر بعض علماء نے فرمایا کہ رب تعالٰی کا اسم اعظم لا الہ الا ھوہے کیونکہ ان دونوں آیتوں میں یہ ہی مشترک ہے۔امام فخر الدین رازی نے فرمایا کہ اسم اعظم الحی القیوم ہے ،امام جزری نے فرمایا کہ اسم اعظم لا الہ الا ھو الحی القیومہے،حاکم نے حضرت عبداﷲ ابن عباس و ابوالدرداء رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ اسم اعظم رب ہے،حضرت امام زین العابدین نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہتا ہے کہ اسم اعظم اﷲ الذی لا الہ الا ھو ربّ العرش العظیمہے،بعض نے فرمایا کلمہ طیبہ اسم اعظم ہے۔غرض کہ اسم اعظم میں بہت روایات ہیں جنہیں امام جلال الدین سیوطی نے اپنے رسالہ میں اور مولانا علی قاری نے مرقات میں جمع فرمایا۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی کے سارے ہی نام عظیم ہیں کوئی ناقص نہیں مگر بعض نام اعظم یعنی بہت بڑے ثواب و تاثیر والے ہیں،بعض صوفیاء نے فرمایا کہ جو نام خلوص دل اور عشق و محبت سے لیا جائے وہی اسم اعظم ہے،یہ ہی امام جعفرصادق کا قول ہے۔