| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم جامع دعائیں پسند فرماتے تھے اور اس کے ماسواء دعائیں چھوڑ دیتے تھے ۱؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ جامع دعا وہ کہلاتی ہے جس کے الفاظ تھوڑے ہوں،معافی زیادہ جیسے"رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَاحَسَنَۃً" الایہ۔اور جیسے"اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃِ"۔یہاں عمومی حالات مراد ہیں یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم عام طور پر جامع دعائیں مانگتے تھے،خاص موقعوں پر خاص دعائیں بھی مانگی ہیں۔جیسے استسقاء میں بارش کی دعا وغیرہ لہذا یہ حدیث ان روایات کے خلاف نہیں۔