Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
454 - 5479
حدیث نمبر 454
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ اپنی جانوں پر بددعا کرو اور نہ اپنی اولاد پر اور نہ اپنے مالوں پر ۱؎ ایسا نہ ہو کہ اتفاقًا وہ ایسی گھڑی ہو جس میں اﷲ سے جو مانگا جائے وہ ملے اور تمہاری یہ ہی دعا قبول ہوجائے ۲؎ (مسلم)اور حضرت ابن عباس کی یہ حدیث کہ مظلوم کی بددعا سے بچو کتاب الزکاۃ میں ذکر کی جاچکی۔
شرح
۱؎ دعا کے بعد اگر علیٰ آئے تو وہ دعا بمعنی بددعا ہوتی ہے اور اگر لام آئے تو بمعنی دعائے خیر یہاں علیٰ ہے۔مطلب یہ ہے کہ غصّے یا جوش میں اپنی جان،اولاد کو نہ کوسو،مال،جانور،غلام کی ہلاکت کی دعا نہ کربیٹھو۔اس حدیث سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو ان بددعاؤں کے عادی ہوچکے ہیں،بات بات میں کہتے ہیں،مرجاؤں تو مٹ جائے،تجھے سانپ کانٹے،تجھے گولی لگے۔معاذاﷲ! اور اگر کوئی ایسا حادثہ ہوجائے تو پھر سر پکڑ کر روتے ہیں۔

۲؎  اس سے معلوم ہوا کہ قبولیت کی گھڑی صرف جمعہ یا شبِ قدر یا آخری رات ہی میں نہیں ہے اور وقت میں بھی ہوتی ہے،مگر کبھی کبھی تو ہر ساعت میں احتمال ہے کہ وہ قبولیت کی ہو،اس لیے ہمیشہ اچھی دعائیں ہی مانگے،کبھی بددعا منہ سے نہ نکالے۔خیال رہے کہ لعان میں ایسے ہی مباہلہ میں اپنے کو بددعا دینا اظہار حق کے لیے ہوتا ہے وہ محض بددعا نہیں ہوتی وہاں یہ کہا جاتا ہے کہ اگر میں حق پر نہ ہوں تو ہلاک ہوجاؤں،لہذا یہ حدیث آیت لعان اور آیت مباہلہ کے خلاف نہیں،وہ آیات اپنی جگہ حق ہیں۔
Flag Counter