۱؎ کسی کے سامنے اس کے لیے دعا کر نے میں چاپلوسی،خوشامد،ریاء وغیرہ کا احتمال ہے مگر پس پشت دعا میں یہ کوئی احتمال نہیں،اس میں اخلاص ہی ہوگا اسی لیے پس پشت کی قید لگائی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کی خدمت بہترین عبادت ہے اور اس کی خیر خواہی بہترین عمل۔
۲؎ یہ فرشتہ کوئی اور فرشتہ ہے جس کے ذمہ یہ ہی خدمت کہ ایسی دعاؤں پر آمین کہا کرے،محافظ یا کاتب اعمال فرشتہ نہیں وہ فرشتہ تو داہنے بائیں ہر وقت رہتے ہیں۔
۳؎ یعنی تم مسلمان بھائی کے لیے دعا کرو تو فرشتہ تمہارے لیے دعا کرے گا اگر تم نے فرشتہ کی دعا لینا ہے تو دوسروں کو دعا دو بعض بزرگ جب کوئی دعا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں اور اپنے لیے بھی جمع کے صیغہ سے دعا کرتے ہیں،ان عملوں کا ماخذ یہ حدیث ہے یہ عمل بھی ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا کر لے پھر دوسرے کے لیے ربّ اغفرلی ولوالدیّ۔