Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
453 - 5479
حدیث نمبر 453
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی پس پشت دعا ضرور قبول ہے ۱؎ اس کے سر کے پاس فرشتہ مقرر ہوتا ہے ۲؎ کہ وہ جب اپنے بھائی کے لیے دعا خیر کرتا ہے تو مقرر فرشتہ کہتا ہے آمین اور تجھے بھی اس جیسا ملے ۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ کسی کے سامنے اس کے لیے دعا کر نے میں چاپلوسی،خوشامد،ریاء وغیرہ کا احتمال ہے مگر پس پشت دعا میں یہ کوئی احتمال نہیں،اس میں اخلاص ہی ہوگا اسی لیے پس پشت کی قید لگائی۔اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کی خدمت بہترین عبادت ہے اور اس کی خیر خواہی بہترین عمل۔

۲؎ یہ فرشتہ کوئی اور فرشتہ ہے جس کے ذمہ یہ ہی خدمت کہ ایسی دعاؤں پر آمین کہا کرے،محافظ یا کاتب اعمال فرشتہ نہیں وہ فرشتہ تو داہنے بائیں ہر وقت رہتے ہیں۔

۳؎ یعنی تم مسلمان بھائی کے لیے دعا کرو تو فرشتہ تمہارے لیے دعا کرے گا اگر تم نے فرشتہ کی دعا لینا ہے تو دوسروں کو دعا دو بعض بزرگ جب کوئی دعا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے دوسروں کے لیے دعا کرتے ہیں اور اپنے لیے بھی جمع کے صیغہ سے دعا کرتے ہیں،ان عملوں کا ماخذ یہ حدیث ہے یہ عمل بھی ہے کہ پہلے اپنے لیے دعا کر لے پھر دوسرے کے لیے ربّ اغفرلی ولوالدیّ۔
Flag Counter