Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
449 - 5479
حدیث نمبر 449
روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے الٰہی میں نے تجھ سے ایک عہد لے لیا ہے تو ہر گز اس کے خلاف نہ کرے گا۱؎ کہ میں بشر ہوں،لہذا جس مسلمان کو میں ایذاء دے دوں اسے برا کہہ دوں بددعا کردوں کوڑا ماروں تو تو اس کے لیے رحمت و پاکی اور قربت بنا کہ جس کے ذریعہ اسے قیامت کے دن اپنے سے قریب فرما۲؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ عہد سے مراد دعا ہے اور یہ کلام اخبار نہیں بلکہ انشاء ہے یعنی اے مولیٰ میں تجھ سے دعا کرتا ہوں مجھے یقین ہے کہ تو میری دعا رد نہ فرمائے گا کیونکہ نبی کی دعا رد نہیں ہوتی ان کی دعا مثل عہدِ الٰہی کے ہے جس کے خلاف کا احتمال نہیں مرقات۔

۲؎ یعنی چونکہ تو نے مجھ میں بشریت بھی ودیعت رکھی ہے اور بشریت کے لیے غصہ بھی لازم ہے اگر میں کسی وقت غصہ میں کسی کو زبانی یا بدنی تکلیف پہنچادوں تو تو میری بددعا یا میری مار کو اس شخص کے لیے رحمت بنادینا میری بددعا کو الٹی کرکے لگانا اس فرمان پاک سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بددعاؤں کو جو کسی امتی کے لیے ہوجائیں خود دعا بنادیا کہ عرض کیا خدایا وہ بددعائیں میری قبول نہ فرما بلکہ ان کے برعکس کردے،دوسرے یہ کہ نبی اگر کسی پر بلاوجہ سختی فرمادیں برا کہہ دیں،مار دیں تو ان پر قصاص نہیں۔ دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام کی داڑھی بھی پکڑ لی اور بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا بھی مگر قصاص نہیں دیا۔ تیسرے یہ کہ حضرت امیر معاویہ کو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲ ان کا پیٹ نہ بھرے یہ بددعا یقینًا ان کو دعا ہو کر لگی کہ غریب تھے پھر اتنے بڑے مالدار ہوئے کہ اما حسن و حسین علیہما السلام اور حضرت علی کے بھائی عقیل کو لاکھوں روپے نذرانے دیتے رہتے تھے دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ۔ خیال رہے کہ ان تمام سے وہ بددعائیں و سزائیں مراد ہیں جو غیر مستحق کو دی جائیں اور ممکن ہے کہ عام بددعائیں و سزائیں مراد ہوں،مستحق کو دی جائیں یا غیرمستحق کو بشرطیکہ وہ مسلمان ہوں(اشعہ)یہاں مرقات نے فرمایا کہ ایک بار حضرت عائشہ صدیقہ نے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم سے کوئی چیز بہت اصرار سے مانگی اور سرکار کا دامن پیچھے سے پکڑ کر کھینچا کہ مجھے وہ چیز دے کر جائیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے منہ سے نکلا کہ تمہارے ہاتھ ٹو ٹ جائیں حضرت ام المؤمنین غمگین بیٹھ گئیں،تب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ دعا مانگی بعض سے فرمادیا عقرٰی حلقٰی بعض کو فرمایا رغم انف ابی ذر۔
Flag Counter