روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر نبی کی ایک دعا خصوصًا قبول ہوتی ہے تو ہر نبی نے اپنی وہ دعا یہاں استعمال کرلی ۱؎ اور میں نے اپنی دعا روز قیامت کے لیے بچا رکھی اپنی امت کی شفاعت کے واسطے چنانچہ میری وہ دعا ان شاءاﷲ میرے ہر اس امتی کو پہنچے گی جو اس طرح مرے کہ رب تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو۲؎ (مسلم)اور بخاری میں کچھ مختصر ہے۔
شرح
۱؎ یعنی یوں تو انبیاء کرام کی قریبًا ساری دعائیں ہی قبول ہیں مگر رب تعالٰی کی طرف سے ہر نبی کو ایک خصوصی دعا عطا ہوتی ہے جس کے متعلق رب تعالٰی کا حتمی وعدہ ہوتا ہے کہ ہم ضرور قبول کریں گے تمام نبیوں نے اپنی اپنی دعائیں دنیا میں استعمال فرمالیں کسی بزرگ نے ہلاکت کفار کے لیے جیسے حضرت نوح،صالح،لوط و ہودعلیہم الصلوۃ والتسلیمات اور بعض انبیائے کرام نے کسی اور مقصد کے لیے استعمال فرمالیں جیسے حضرت ابراہیم اسماعیل یعقوب و یوسف علیہم الصلوۃ والسلام کسی بزرگ نے اپنی دعا کسی مقصد میں استعمالی فرمالی یہ بہت وسیع مضمون ہے۔(اشعۃ اللمعات) ۲؎ یعنی میں نے اپنی وہ دعا یہاں استعمال نہ کی بلکہ قیامت کے لیے اٹھا ر کھی ہے اس سے اپنی امت کی شفاعت کروں گا اور اسی کا فائدہ ہر وہ شخص اٹھائے گا جسے ایمان پر خاتمہ نصیب ہو۔ خیال رہے کہ ایسے موقع پر شرک نہ کرنے سے مراد کفر نہ کرنا ہے جیسے رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ"الخ لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت مرزائیوں،چکڑالویوں وغیرہ مرتدین کو پہنچے گی کہ یہ لوگ مشرک تو نہیں۔