| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے ارسالًا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا جو قل ہو اﷲ احد دس۱۰ بار پڑھے اﷲ اس کے لیے جنت میں محل تیار کرے گا اور جوبیس بار پڑھے اﷲ اس کی برکت سے جنت میں دو محل بنائے گا اور جو اسے تیس بار پڑھے اﷲ اس کی برکت سے جنت میں تین محل تیار کرے گا ۱؎حضرت عمر ابن الخطاب نے عرض کیا یارسول اﷲ تب تو اﷲ کی قسم ہم اپنے محل بہت بنوالیں گے ۲؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اﷲ اس سے بھی زیادہ وسعت والا ہے۳؎(دارمی)
شرح
۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ ہر دس بار پر ایک بے مثل محل کا عطیہ ہے،یہ تکرار اس لیے مذکور ہوئی کہ کوئی شخص یہ نہ خیال کر لے کہ محل کی عطا صرف پہلے دس بار پر تو ہے،بعد میں نہیں،وسعت عطا ظاہر فرمانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جتنے دہا کے۱۰ پڑھو گے اتنے ہی محل پاؤ گے۔ ۲؎ یہ عرض معروض تعجب کے طور پر ہے کہ اگر رب کی عطا کا یہ حال ہے تو ہم میں سے ہرشخص خوب تلاوت سورۂ اخلاص کیا کرے گا اور خوب محل بنوائے گا۔ ۳؎ یعنی اے عمر تم اس عطاء پر تعجب نہ کرو،رب کی جنت بہت وسیع ہے اور اس کی عطاء بہت زیادہ اگر تمام انسان ایمان لاکر ہزارہا بار روزانہ سورۂ اخلاص کی تلاوت کیا کریں تو ہر ایک کو اسی حساب سے جنتی محل عطا فرمائے گا اور اس کے خزانوں میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم رب تعالٰی کی عطا کے مظہر اتم ہیں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض موقعہ پر معمولی خدمت پر جنت بخش دی۔شعر جھولیاں کھولےہوئے یونہی نہ دوڑےآتے ہم کو معلوم ہے دولت تری عادت تیری