۱؎ یعنی ایک دو دن تو آدمی تمام کام بند کرکے ایک ہزار آیتیں پڑھ سکتا ہے،روزانہ نہیں پڑھ سکتا۔ورنہ دوسرے کاموں کے لئے وقت نہ ملے گا ہم لوگ کاروبار بھی کرتے ہیں۔
۲؎کہ اس کی تلاوت میں ایک ہزار آیتوں کا تلاوت و عمل کا ثواب ہے،قرآن کریم میں چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ(۶۶۶۶) آیتیں ہیں،کسر کو نکا لو تو چھ ہزار آیات رہتی ہیں،اور مقاصد قرآن چھ ہیں،جن میں سے ایک ہے آخرت کی پہچان یہ سورۃ تکاثر میں موجود ہے،اس لئے یہ سورۃ گویا قرآن کریم کا تقریبًا چھٹا حصّہ ہے،اس میں غور کرنے سے دنیا سے بے رغبتی ہوتی ہے آخرت میں رغبت،جس سے نفس گناہوں سے متنفر اور نیکیوں میں راغب ہوتا ہے۔