۱؎ چنانچہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم وتر کی پہلی رکعت میں یہ ہی سورۃ پڑھتے تھے،ویسے بھی اس کی تلاوت زیادہ کرتے تھے اس لیے کہ اس سورۃ میں حضرت ابراہیم و موسیٰ علیہما السلام اور ان کے صحیفوں کا بھی ذکر ہے اور مشکلات آسان کرنے کا بھی وعدہ ہے جیسے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سورۂ فتح دنیا و مافیہا سے زیادہ پیاری ہے کہ اس میں فتح مکہ کا وعدہ ہے،مغفرت کی بشارت ہے،مرقات میں اس جگہ فرمایا کہ انسان اپنے اوقات کے تین حصے کرے ایک حصہ میں اپنے نفس کا حساب لے کہ میں نے آج کتنے جرم کئے اور کیوں کئے دوسرے حصے میں اﷲ تعالٰی کی صنعتوں میں غور کرے،تیسرے حصے میں تلاش معاش کرے اس سورۃ میں یہ تینوں چیزیں صراحۃً یا اشارۃً مذکور ہیں۔