۱؎ بعض شارحین نے اس حدیث کی تاویلیں کی ہیں کہ اسے فاقہ میں بے صبری نہ ہوگی یا اسے توکل نصیب ہوگا یا اسے دلی فاقہ یعنی عبادت سے غفلت نہ ہوگی،مگر حق یہ ہے کہ حدیث ظاہر پر ہے سورۂ واقعہ ہر رات پڑھنے والا فقرو فاقہ سے محفوظ رہتا ہے۔یہ عمل بہت مجرب ہے،اﷲ تعالٰی نے بعض سورتوں،آیتوں میں دنیاوی فائدے بھی رکھے ہیں تاکہ لوگوں کو تلاوت قرآن کی رغبت ہو مختلف آیتوں میں مختلف دنیاوی تاثیریں بھی رکھی گئی ہیں،(لمعات)
۲؎ تاکہ تلاوت کا ثواب بھی پائیں اور فقرو فاقہ سے محفوظ بھی رہیں۔ معلوم ہوا کہ دنیاوی نفع و اثر کے لیے بھی قرآن پاک پڑھنا جائز ہے،ہاں ناجائز مقاصد کے لیے قرآن کریم پڑھنا یا کوئی عمل کرنا جرم ہے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم قرآنی آیات اور دوسری دعائیں بیماروں پر استعمال فرماتے تھے شفا کے لیے۔