Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
390 - 5479
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 390
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے قرآن کو خوب ظاہر کرو ۱؎ اور قرآن کے عجائبات کی پیروی کرو اس کے عجائب اس کے فرائض اور اس کے اسرار ہیں ۲؎
شرح
۱؎ اے عالمو قرآن کریم کی لوگوں میں خوب اشاعت کرو اسے چھپا نہ رکھو جیسے یہود و نصاریٰ نے اصل توریت و انجیل چھپادی سورج چھپنے کے لیے نہیں نکلتا چمکنے کے لیے نکلتا ہے قرآن کو چمکنے دو بلکہ خود بھی چمکاؤ اعراب کے معنے ہیں ظاہر کرنا عربی میں حرکات یعنی زبر ،زیر، پیش کو اسی لیے اعراب کہتے ہیں  کہ اس سے کلمات کی فاعلیت مفعولیت وغیرہ ظاہر ہو کر عبارت کے معنے ظاہر ہوجاتے ہیں۔

 ۲؎ یعنی غرائب سے مراد قرآنی متشابہات نہیں کیونکہ ان کی تاویلیں کرنا منع بلکہ مراد قرآنی احکام ہیں،جو بہت انوکھے اور نرالے ہیں یا فرائض سے مراد کرنے والے کاموں کے احکام ہیں اور حدود سے مراد نہ کرنے والی چیزیں یا فرائض سے مراد وراثت کے حصے ہیں اور حدود سے مراد باقی دیگر احکام ہیں یا فرائض سے مراد عام فہم معنے و احکام ہیں اور حدود سے مراد قرآنی اسرار ہیں یعنی قرآنی احکام اس کے معجزات اس کے وعدے وعید ہیں طلباء و عوام پر ظاہر کرو طلباء پر مدرسوں میں عوام پر مجلسوں اوروعظوں میں۔ قرآن کا ایک ظاہر ہے ایک باطن جیسے انسان کا ظاہر بدن ہے اور باطن قلب و روح،فرائض میں ظاہر کی طر ف اشارہ ہے،حدود میں باطن کی طرف۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن شریف کے لیے علم نحو،صرف لغت بلاغت وغیرہ سیکھنا ضروری ہے کہ ان علموں کے بغیر قرآن کے ہرصفات ظاہر نہ ہوسکتے ہیں نہ کئے جاسکتے ہیں۔
Flag Counter