۱؎ اقراء سے ہمزہ استفہامیہ دور کردیا گیا ہے یعنی کیا میں آفات سے بچنے اور مصیبتوں کے دفع کرنے کے لیے سورۂ یوسف و ہود کا ورد رکھوں،لمعات و مرقات۔غرضکہ یہاں تلاوت کی اجازت نہیں چاہ رہے ہیں بلکہ تعوّذ کی اجازت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وردو ظیفوں میں شیخ کی اجازت چاہئیے ورنہ ثواب تو مل جائے گا مگر اثر نہ ہوگا۔یہ حدیث اجازت شیخ کی اصل ہے۔
۲؎ یعنی سورۃ فلق پڑھنے میں نہایت آسان ہے کہ مختصر سی سورۃ ہے اور بلائیں دفع کرنے میں تیر بہدف اور جامع ہے کیونکہ اس میں ہرمخلوق کی شر سے پناہ مانگ لی گئی ہے اور وظیفوں و دعاؤں میں جامع وظیفے و دعائیں بہتر ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ ممکن ہے اس سے دو سورتیں فلق و ناس مراد ہوں یعنی ایک کا ذکر فرما کر دونوں کی اجازت دی ہو کیونکہ سورۂ ناس سورۂ فلق کی ساتھی ہے واﷲ اعلم۔