Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
387 - 5479
حدیث نمبر 387
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ جب میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حجفہ اور ابواء کے درمیان سفر کررہا تھا ۱؎ کہ اچانک ہمیں آندھی اور سخت تاریکی نے گھیر لیا ۲؎ تو رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم تعوذ فرمانے لگے اعوذ برب الفلق سے اعوذ برب الناس اور فرمانے لگے اے عقبہ ا ن دونوں سورتوں سے تعوذ کیا کرو کہ کسی پناہ لینے والے نے ان جیسی سے تعوذ نہ کیا۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ حجفہ اور ابواء دونوں مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کے درمیا ن دو مقامات ہیں،ابواء تو وہ ہی جگہ ہے جہاں حضرت آٓمنہ خاتون رضی اللہ عنہا کی وفات شریف ہوئی،حجفہ شام،مصر اورمغرب والوں کا میقات ہے جہاں سے یہاں کے حجاج احرام باندھتے ہیں اسی جگہ کے متعلق حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے دعا فرمائی تھی کہ خدایا مدینہ کی وبا حجفہ کی طرف منتقل فرمادے چنانچہ وہاں بیماریاں خصوصًا بخار بہت زیادہ ہے حتی کہ اگر پرندہ بھی وہاں سے گزرے تو اسے بھی بخار آجاتا ہے یہ جگہ رابغ کے پاس ہے۔بعض کا خیال ہے کہ اب اسی حجفہ کا نام رابغ ہے،حجفہ اور ابواء کے درمیان بیس میل کا فاصلہ ہے۔(لمعات ومرقات)

۲؎ یعنی کالی آندھی آگئی اور ہم اس میں گھر گئے سفر میں ایسی صورت بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں سورتیں صرف جادو کے لیے ہی نہیں بلکہ دوسری آفتوں میں بھی کام آتی ہیں اگر ان کا تعویذ لکھ کر ساتھ رکھا جائے تو بھی امان ملتی ہے قرآنی آیات سے تعویذ جائز ہے۔
Flag Counter