Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
361 - 5479
حدیث نمبر 361
روایت ہے حضرت ابوسعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے جسے قرآن مجید میرے دوسرے ذکر اور مجھ سے مانگنے سے روک دے ۱؎ اسے میں مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا۲؎ اور اﷲ تعالٰی کے کلام کی فضیلت تمام کلاموں پر ویسی ہی ہے جیسے اﷲ کی عظمت اپنی خلق پر۳؎ ترمذی دارمی،بیہقی شعب الایمان۴؎ اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎ قرآن سے مراد حفظ قرآن یا تلاوت قرآن یاتفکر و تدبر فی القرآن ہے۔یعنی جو حافظ یا قاری قرآن یا تجوید یاد کرنے میں عالم دین قرآن کریم سے مسائل مستنبط کرنے میں اتنا مشغول رہے کہ اسے دیگر وظیفے دعاؤں کا وقت ہی نہ ملے۔اسی طرح جو معلم تعلیم علوم قرآن کی مشغولیت کی وجہ سے درود وظیفے دعائیں نہ کرسکے یہاں دعاؤں وظیفوں سے مراد وہ دعائیں وظیفے ہیں جو قرآن مجید کے علاوہ ہیں ورنہ قرآن شریف میں خود بہت دعائیں وظیفے ہیں۔

۲؎  اعطی متکلم کا صیغہ ہے اسی لیے سائلین منصوب آیا۔خیال رہے کہ رب تعالٰی سے دعائیں مانگنا صراحۃً اور صاف صاف بھیک مانگنا ہے مگر تلاوت قرآن یا تعلیم قرآن بالواسطہ بھیک ہے جیسے ہمارے دروازہ پر بھکاری کھڑے ہو کر ہماری تعریفیں کرتے ہیں کہ آپ بڑے سخی داتا ہیں یوں ہی درود شریف در پردہ دعا ہے بھکاری غنی کے بال بچوں کو دعائیں دے کر در پردہ بھیک مانگتے ہیں بچے جیتے رہیں جان مال کی خیر ہو،ہم بھی رب تعالٰی کے محبوب کو دعائیں دے دے کر اس سے بھیک مانگتے ہیں اسی لیے درود شریف کے متعلق بھی مشکوۃ شریف میں گزر چکا کہ جو شخص درود شریف میں مشغولیت کی وجہ سے دعا نہ مانگ سکے اس کے تمام ضروریات خود ہی پوری ہوں گے،دکھ،درد، رنج غم خود بخود ہی دفع ہوتے رہیں گے۔

 ۳؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ بھی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کا ہی فرمان عالی ہے یعنی کلام کی شان متکلم کی شان کے بقدر ہوتی ہے۔ ایک بات فقیر بے نوا کہے اس پر کوئی دھیان بھی نہیں دیتا وہ ہی بات بادشاہ کہے تو دنیا میں دھوم مچ جاتی ہے چونکہ کلام اﷲ رب تعالٰی کا کلام ہے اس لیے تمام مخلوق کے کلام سے یقینًا افضل ہے،اسی طرح حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم بعد خدا تمام خلق سے افضل ہیں تو حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیت تمام خلق کے کلاموں سے بعد قرآن افضل ہوں گی۔

 ۴؎ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے عطیہ عوفی کے کہ ان میں کچھ ضعف ہے مگر فضائل اعمال میں ضعیف حدیث بھی معتبر ہے۔خصوصًا جب کہ دوسری روایتوں یا قرآنی آیتوں سے اسے قوت پہنچ جائے اس حدیث کو دوسری اسنادوں سے قوت حاصل ہے اس لیے اسے ترمذی نے حسن فرمایا۔
Flag Counter