۱؎ یعنی پہننے کے سونے چاندی کے زیور میں بھی زکوۃ واجب ہے،یہاں صدقہ سے مراد زکوۃ ہے جیساکہ اگلی حدیث میں صاف آرہا ہے۔خیال رہے کہ پہننے کے ان زیوروں پر امام اعظم کے ہاں زکوۃ واجب ہے،امام شافعی کے قول جدید میں اور امام احمد کے ہاں اس میں زکوۃ نہیں،یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے اس کا کچھ ذکر اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
۲؎ مرقات نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد بالکل صحیح ہے اور اس کے راوی سارے قوی،نیز اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہے"وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ"الایہ۔رب تعالٰی نے سونے چاندی میں تجارت کی قید نہ لگائی۔معلوم ہوا کہ پہننے کا زیوربھی اسی حکم میں داخل ہے لہذا سونے چاندی کے استعمالی زیور پر زکوۃ فرض ہے جب کہ ان کا وزن نصاب کو پہنچ جائے۔