۱؎ شہد کی زکوۃ کا مسئلہ بڑے معرکہ کا ہے،تین اماموں کے ہاں اس میں زکوۃ نہیں،امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کے ہاں اس میں زکوۃ ہے،پھر اس کے نصاب کے بارے میں خود امام صاحب سے کئی روایتیں ہیں:ایک یہ کہ اگر شہد عشری زمین سے حاصل ہوا تو اس میں مطلقًا زکوۃ ہے تھوڑا ہو یا زیادہ کیونکہ سرکار فرماتے ہیں"مَا اَخْرَجَتْہُ الْاَرْضُ فَفِیْہُ الْعُشْرُ"اور ایک روایت میں یہ ہے کہ شہد کی قیمت پر زکوۃ ہے،ایک روایت یہ ہے کہ اگر دس مشکیزے ہوں تو ایک مشکیزہ اس کی زکوۃ،یہ حدیث اس تیسرے قول کی دلیل ہے امام شافعی کا بھی پہلا قول یہی تھا۔
۲؎ یعنی محدثین کے نزدیک یہ صحیح نہیں۔خیال رہے کہ محدثین کی یہ جرح امام اعظم کو مضر نہیں کیونکہ یہ حدیث امام صاحب کو صحیح ملی تھی اس لیے کہ آپ کا زمانہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت قریب ہے،ان محدثین کو ضعیف ہوکر ملی،بعد کا ضعف امام صاحب کو مضر نہ ہوگا،نیز یہ حدیث بہت روایتوں سے مروی ہے۔چنانچہ ابن ماجہ نے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد سے عشر وصول فرمایا ہے،بعض احادیث میں یوں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شہد کا عشر لیا جاتا تھا،ہدایہ نے حدیث یوں نقل کی کہ بنی شبابہ حضور انور صلے اﷲ علیہ وسلم کو شہد کا عشر دیتے تھے،تعدد اسناد کی وجہ سے متن حدیث قوی ہوگیا۔