Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
332 - 5479
حدیث نمبر 332
روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں معتکف کے لیے سنت یہ ہے کہ نہ تو بیمار کی مزاج پرسی کرے ۱؎ اور نہ جنازے ہی کو جائے ۲؎ نہ عورت کو ہاتھ لگائے نہ اسے چھوئے ۳؎ نہ کسی کام کو جائے سوائے ضروری کام کے ۴؎ بغیر روزہ اعتکاف نہیں ہوتا ۵؎ اور صرف جامع مسجد میں ہی اعتکاف کرے ۶؎(ابوداؤد)۷؎
شرح
۱؎ نہ مزاج پرسی کے لیے مسجد سے نکلے اور نہ مسجد سے باہر اس کے لیے ٹھہرے لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ وہاں چلتے ہوئے مزاج پرسی مراد تھی اور یہاں ٹھہر کر۔

۲؎ یعنی نماز جنازہ کے لیے مسجد سے باہر نہ جائے اگرچہ خارج مسجد میں نماز جنازہ ہو کہ معتکف اندرونِ مسجد رہنا چاہیے بلا ضرورت وضو وغسل کی جگہ بھی نہ جائے اگرچہ یہ جگہ مسجد کی حدود میں ہوتی ہے ۔

۳؎  یعنی معتکف اپنی بیوی کو نہ شہوۃً ہاتھ سے چھوئے نہ اسے چمٹائے نہ صحبت کرے صحبت سے تو اعتکاف یقینًا جاتا رہے گا اور بوس و کنار یا شہوۃً چھونے سے انزال ہوگیا تو اعتکاف گیا،ورنہ سخت مکروہ ہوا۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ نفلی غسل گرمی کے غسل کے لیے مسجد سے نکلنا بھی جائز نہیں،صرف پیشاب پاخانہ غسل جنابت کے لیے نکل سکتا ہے حتی کہ جس پر جمعہ فرض نہیں جیسے عورت یا دیہاتی وہ نماز جمعہ کے لیے مسجد سے نہیں جاسکتا۔

۵؎ یہ حکم اعتکاف فرض یا اعتکاف سنت کے لیے ہے کہ ان دونوں میں روزہ شرط ہے اعتکاف نفل میں نہ روزہ شرط ہے نہ وقت کی پابندی۔

۶؎ یہ حکم مرد کے اعتکاف کے لیے ہے،عورتوں کے اعتکاف کے لیے مسجدشرط نہیں وہ اپنے گھروں میں اعتکاف کریں۔ جامع مسجد سے مراد جماعت والی مسجد ہے جہاں مؤذن و امام مقرر ہو اور نماز پنجگانہ باجماعت ہوتی ہو ایسی ہی  مسجد میں اعتکاف کرے اور اگر اس سے جمعہ والی مسجد مراد ہو جہاں نماز جمعہ بھی ہوتی ہو تو یہ حکم استحبابی ہے کہ جمعہ والی مسجد میں اعتکاف مستحب ہے جائز تو ہر مسجد میں ہے رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاَنۡتُمْ عٰکِفُوۡنَ فِی الْمَسٰجِدِ"۔خیال رہے کہ سب سے افضل اعتکاف حرم کعبہ یعنی مسجد حرام ہے پھر مسجد نبوی میں پھر بیت المقدس میں پھر وہاں جہاں کا امام افضل ہو پھر وہاں جہاں جماعت بڑی ہوتی ہو مرقات و لمعات،یہ حدیث احناف کی دلیل ہے کہ مرد مسجد میں ہی اعتکاف کرسکتا ہے۔

۷؎ یہ حدیث کچھ فرق سے نسائی نے بھی نقل کی مؤطا امام مالک میں کچھ تھوڑی تبدیلی سے ہے اس حدیث کی اسناد میں عبدالرحمن ابن اسحاق ہیں جن پر بعض محدثین نے جرح کی ہے مگر بعض محدثین نے انہیں ثقہ کہا اور جب جرح و تعدیل میں تعارض ہوا تو تعدیل مقدم ہوتی ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ کا یہ فرمانا کہ سنت یہ ہے مرفوع حدیث کے حکم میں ہے کیونکہ یہ بات محض اٹکل و قیاس سے نہیں کہی جاسکتی۔
Flag Counter