| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت زرین بن حبیش سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابی ابن کعب سے پوچھا میں نے کہا کہ تمہارے بھائی ابن مسعود فرماتے ہیں جو سال بھر شب بیداری کرے وہ شب قدر پا لے گا ۲؎ وہ بولے اﷲ ان پر رحم کرے انہوں نے چاہا یہ لوگ بھروسہ نہ کرلیں ورنہ وہ جانتے ہیں کہ شبِ قدر رمضان میں ہے اس کے آخری عشرہ میں ہے اور وہ ستائیسویں شب ہے۳؎ پھر آپ نے بغیر ان شاءاﷲ کہے قسم کھائی کہ وہ ستائیسویں شب ہے۴؎ میں نے کہا آپ کس دلیل سے یہ فرماتے ہیں اے ابو المنذر فرمایا اس نشانی یا اس دلیل سے جو ہمیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی کہ اس دن سورج بغیر شعاؤں کے طلوع ہوتا ہے ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ جلیل القدر تابعین میں سے ہیں،آپ کی عمر ایک سوبیس یا ایک سوتیس یا ڈیڑھ سو برس ہوئی،آدھی عمر جاہلیت میں گزاری،آدھی اسلام میں،زبردست قاری تھے،حضرت ابن مسعود و ابی ابن کعب کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ ۲؎ شبِ بیداری سے مراد نماز تہجد پڑھنا ہے کیونکہ تمام سال پوری رات جاگنا شرعًا ممنوع ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"قُمِ الَّیۡلَ اِلَّا قَلِیۡلًا"۔یہ حدیث ان بزرگوں کی دلیل ہے جو کہتے ہیں کہ شبِ قدر نہ تو رمضان کی کسی خاص تاریخ سے مخصوص ہے نہ خود رمضان شریف سے بلکہ سال کے کسی مہینہ میں ضرور ہوتی ہے۔ مسئلہ: اگر کوئی اپنی بیوی سے کہے کہ تجھے شب قدر کی صبح کو طلاق ہے تو کہنے سے سال بھر کے بعد طلاق واقع ہوگی کیونکہ نکاح یقینی تھا اور شبِ قدر کی تعیین میں شک ہے سال میں یقینًا ہوتی ہے یقینی چیز یقینی سے ہی زائل ہوسکتی ہے۔ ۳؎ یعنی میرا بھی گمان غالب قریبًا یقین ہے اور حضرت ابن مسعود کا بھی کہ شبِ قدر ستائیسوئیں رمضان کی رات ہے مگر انہوں نے اس کا اظہار محض اس لیے نہ کیا کہ تم لوگ اس کی تلاش نہ چھوڑو تلاش میں لگے رہو کہ ثواب پاتے رہو کہ اچھی چیز کی تلاش بھی اچھی ہے۔ ۴؎ یعنی یوں فرمایا کہ قسم خدا کی شبِ قدر ستائیسویں رمضان کی شب ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مسائل اجتہادیہ پر قسم کھائی جاسکتی ہے مثلًا حنفی کہے قسم خدا کی آمین اونچی آواز سے پکارنا منع ہے یا اﷲ کی قسم رفع یدین نہ کرنا سنت ہے،دیکھو حضرت ابی ابن کعب اپنے اجتہاد سے جانی ہوئی بات پر قسم کھارہے ہیں آپ کو اتنا اعتماد ہے۔ ۵؎ یعنی شبِ قدر کی علامت یہ بتائی گئی ہے کہ اس کے سویرے کو سورج کی بوقت طلوع شعاعیں نہیں پڑتیں،سفید بغیر شعاع طلوع ہوتا ہے بعد میں شعاعیں ظاہر ہوتی ہیں اور میں نے یہ آزمالیا کہ ستائیسویں رمضان کو ایسا ہوتا ہے۔اس دلیل کا کبریٰ نص سے ثابت ہے اور صغریٰ ان کے اجتہاد سے لہذا دلیل اجتہادی ہوئی۔اشعۃ اللمعات میں اس جگہ فرمایا کہ ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ سے شبِ قدر کے متعلق پوچھا تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشر کی ساتویں رات ہے خواہ سات باقی ہوں یا سات گزر گئی ہوں یعنی تئیسویں یا ستائیسویں شب،جناب عمر نے پوچھا دلیل کیا ہے آپ نے فرمایا کہ رب تعالٰی نے آسمان بنائے سات،زمین سات،ہفتہ کے دن سات،انسان کی پیدائش سات اندام سے،نیز انسان کھاتا ہے سات اعضاء سے،سجدہ کرتا ہے سات اعضاء پر،طواف میں سات چکر ہیں،رمی جمار میں سات کنکر ہی مارے جاتے ہیں لہذا شب قدر بھی سات کا ہی عدد چاہئیے حضرت عمر نے فرمایا اب ابن عباس تم نے وہ ہی چیز جان لی جو ہمارے علم میں بھی ہے۔