روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود کو عاشورے کے دن روزہ رکھتے پایا ۱؎ ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کیسا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو ۲؎ وہ بولے یہ وہ عظمت والا دن ہے جس میں اﷲ نے موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دی اور فرعون اور اس کی قوم کو ڈبویا،موسیٰ علیہ السلام نے شکریہ میں روزہ رکھا ہم بھی رکھتے ہیں۳؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حقدار ہیں۴؎ چنانچہ یہ روزہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکھا ۵؎ اور اس روزہ کا حکم بھی دیا ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی ہجرت کے دوسرے سال میں جب عاشورے کا دن آیا تو آپ نے یہودکو روزہ دار دیکھا کیونکہ ربیع الاول شریف میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ پہنچے تھے اس سال کا عاشورہ گزر چکا تھا۔ ۲؎ خیال رہے کہ یہود کے مہینے اور تاریخیں اسلامی مہینوں اور تاریخوں کے علاوہ تھیں مگر انہوں نے عاشورے کے دن کو روزہ کے لیے چھانٹ لیا تھا جس میں چاند کے حساب سے ہی روزے رکھتے تھے محض برکت کے لیے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب یہود کے مہینہ ہی اور تھے تو ان کا عاشورا کے دن روزہ کیسا۔ ۳؎ شرعی قاعدہ سے دینی باتوں میں کفار کی خبرمعتبر نہیں مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ خبرمعتبر مانی یا اس لیے کہ عبداﷲ ابن سلام وغیرہ علمائے یہود جو اسلام لاچکے تھے انہوں نے بھی یہ خبر دی یا اس لیے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ وحی سے معلوم تھا،اس کی تائید کرانے کے لیے ان سے یہ سوال فرمایا گیا یا اس لیے کہ یہود کے ہاں یہ خبر متواتر تھی،متواتر خبریں کفار کی بھی معتبر ہیں،تواتر مستقل بڑا ثبوت ہے۔ ۴؎ کیونکہ انبیاء علیہم السلام سارے بھائی ہیں اصل دین میں سب متفق ہیں۔اے یہود! تم نے تو ان کی کتاب ہی بدل دی اور تم اصل دین ہی میں ان کے مخالف ہوگئے تو جب تم ان کی خوشی میں شرکت کرتے ہو تو ہم بھی ان کی خوشی میں شریک ہوں گے اور ان کی یادگار قائم کریں گے۔اس میں لطیف اشارہ اس جانب بھی ہے کہ ہم عاشورہ کا روزہ تمہاری مشابہت کے لیے نہیں رکھتے بلکہ موسیٰ علیہ السلام کی موافقت کے لیے رکھتے ہیں اور موافقت انبیاء علیہم السلام اسلام میں بڑی پیاری چیز ہے،دیکھو سورۂ ص کا سجدہ داؤد علیہ السلام کی موافقت کے لیے ہے نہ کہ داؤدیوں کی مشابہت کے لیے۔فقیر کی اس تقریر سے اس حدیث سے یہ شبہ اٹھ گیا کہ یہود و نصاریٰ سے مشابہت اسلام میں منع ہے۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ شروع اسلام میں یہ مشابہت ممنوع نہ تھی بلکہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بہت سی باتوں میں اہل کتاب کی موافقت کرتے تھے حتی کہ اسلام کا پہلا قبلہ بیت المقدس رہا کیونکہ انہی کے تالیف قلوب کے لیے پھر جب ان کی ہٹ دھرمی کھل گئی تو اسلام میں ان کی مخالفت لازم کردی گئی۔ ۵؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ روزہ رکھنا موسیٰ علیہ السلام کی موافقت کے لیے ہے نہ کہ ان کی متابعت کے لیے۔موافقت اور متعابعت میں زمین و آسمان کا فرق ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَبِہُدٰىہُمُ اقْتَدِہۡ"یہاں موافقت کا ذکر ہے کہ آپ سارے انبیاء کی موافقت فرمائیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگرموسیٰ علیہ السلام تجلیات ظاہری زندہ ہوتے تو انہیں میری اتباع کے بغیر چارہ کار نہ ہوتا،یہاں اتباع کا ذکر ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم انبیاء کے موافق ہیں اور انبیائے کرام حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع۔ ۶؎ چنانچہ شروع اسلام میں عاشوراء کا روزہ فرض رہا،پھر رمضان کی فرضیت سے عاشورا کے روزوں کی فرضیت تو منسوخ ہوگئی مگر سنیت اب بھی باقی ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ معظم واقعات کی یادگاریں منانا رکن اسلامی ہے۔دوسرے یہ کہ یہ یادگاریں محض اس لیے حرام نہ کہی جائیں گی کہ ان میں مشابہت کفار کا شائبہ ہے۔تیسرے یہ کہ اسلامی یادگاریں کھیل کود سے نہ منائی جائیں بلکہ عبادتوں سے منائی جائیں،دیکھو حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی یادگار میں روزہ رکھا جو کہ عبادت ہے۔چوتھے یہ کہ اﷲ والوں کی خوشی میں شرکت کرنا کچھ ملنے کابہانہ ہوجاتاہے،بادشاہوں کے نوکر چاکر شہزادوں کی سالگرہ میں دکھلاوے کی خوشی مناکر بھی کچھ پا لیتے ہیں تو اگر ہم عید میلاد،عید معراج دل سے منائیں تو ان شاءاﷲ منہ مانگی مرادیں پائیں گے بلکہ پا رہے ہیں ان تمام عیدوں کی اصل یہ حدیث ہے۔