۱؎ ان کے نام اور ان کی صحابیت میں بڑا اختلاف ہے بعض نے کہا کہ یہ عامر ابن عبداﷲ ابن مسعود ہیں،تابعی ہیں،بعض نے فرمایا کہ یہ عامر ابن مسعود ابن امیہ ابن خلف جمعی ہیں،یعنی صفوان ابن امیہ کے بھتیجے۔حق یہی ہے کہ آپ صحابی نہیں تابعی ہیں۔
۲؎ جن میں تکلیف بہت کم اور اصل روزے کا ثواب پورا جیسے جہاد میں دشمن بغیر مقابلہ بھاگ جائے اور سردی کا موسم بھی ہو کہ غازی بلا تکلیف ثواب اور غنیمت لے آتا ہے،سردی کے رمضان کا بھی یہی حال ہے۔خیال رہے کہ یہ اصل ثواب میں گفتگو ہے ورنہ گرمی کے روزوں میں زیادہ مشقت کا ثواب بھی ملے گا اسی لیے حضرت علی مرتضیٰ فرماتے ہیں کہ مجھے تین چیزیں بڑی پیاری ہیں:اکرام الضیف،صیام الصیف،جہاد بالسیف،مہمان کی خدمت،گرمی کے روزے،تلوار سے جہاد۔
۳؎ کیونکہ عامر ابن مسعود نے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نہ پائی۔خیال رہے کہ آپ ابراہیم ابن عامر قرشی کے والد ہیں اور آپ کی اس کے سواء کوئی حدیث نہیں۔