Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم
289 - 5479
حدیث نمبر 289
روایت ہے حضرت مسلم قرشی سے فرماتے ہیں کہ یا میں نے یا کسی اور نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمر بھر کے روزوں کے متعلق پوچھا ۱؎ تو فرمایا کہ تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے رمضان کا اور اس کے متصل کا روزہ رکھو۲؎ اور ہر بدھ و جمعرات کا روزہ رکھو تو تم نے ساری عمر کے روزے رکھ لیے۳؎ (ابوداؤد،ترمذی)
شرح
۱؎ کہ پانچ ممنوعہ دنوں کے علاوہ باقی سارا سال روزہ رکھنے کا شرعی حکم کیا ہے ثواب ہے یا گناہ۔

۲؎ متصل سے مراد یا شعبان ہے یا شوال یعنی اکثر شعبان اور سارے رمضان کے روزے رکھو یا سارے رمضان اور چھ شوال کے روزے رکھو،یہ حدیث مجمل ہے جس کی شرح پہلی احادیث تھیں۔

 ۳؎ یعنی ان روزوں میں تمہیں ساری عمر کے روزوں کا ثواب مل جائے گا۔یہاں مرقات نے فرمایا اس سے معلوم ہورہا ہے کہ عمر بھر کے روزے بذات خود ممنوع نہیں بلکہ اگر ضعف پیدا کریں جس سے مسلمان دوسرے حقوق ادا نہ کرسکے تو ممنوع ہیں لہذا بعض صحابہ کرام اور مشائخ عظام کا عمر بھر روزے رکھنا اس حدیث کے خلاف نہیں۔
Flag Counter