۱؎ یہ حکم استحبابی تھا نہ کہ وجوبی،اسی واسطے ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے وہ روزے نفل ہوتے تھے۔مرقات نے فرمایا کہ اثنین پیر کے دن کا نام بن چکا ہے جیسے بحرین ایک علاقہ کا نام ہے اور ناموں میں تبدیلی نہیں ہوتی اس لیے یہاں رفع کی حالت میں اثنان نہ آیا بلکہ اثنین ہی آیا۔بعض کا خیال ہے کہ یہاں یوم پوشیدہ ہے اثنین اس کا مضاف الیہ ہے مگر پہلی بات بہت قوی ہے۔مطلب یہ ہے کہ کسی مہینہ میں پیر منگل اور بدھ کے روزے رکھو اور کسی میں جمعرات،جمعہ اور ہفتہ کے بعض شارحین کے خیال میں یہ واؤ بمعنی اَوْ ہے یعنی تمہیں اختیار ہے کہ پیر سے شروع کرو یا جمعرات سے۔