۱؎ پہلی دوسری تیسری تاریخوں میں یا ان کے قریب۔حضرت ابن مسعود کی یہ روایت اپنے علم کے لحاظ سے ہے ورنہ سرکار کا یہ عمل کبھی کبھی تھا اکثر ۱۳،۱۴،۱۵ کو روزہ رکھا کرتے تھے لہذا یہ حدیث نہ تو اس حدیث کے خلاف ہے کہ سرکار مہینہ کے روزوں میں خاص تاریخوں کے پابند نہ تھے اور نہ اس کے مخالف کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض یعنی تیرھویں،چودھویں،پندرھویں کے روزے رکھتے تھے۔
۲؎ یعنی اکثر جمعہ کو روزہ رکھتے تھے،چونکہ جمعہ کی نیکی کا ثواب ستر گُنا ہے۔ظاہر یہ ہے کہ آپ صرف جمعہ کا روزہ رکھتے تھےاور یہ آپ کی خصوصیات میں سے نہیں،ہر شخص کو اس دن کے روزے کی اجازت ہے لہذا یہ حدیث مذہب حنفی و فقہاء کے فتوی کی مؤید ہے کہ جمعہ کا روزہ ممنوع نہیں،جہاں ممناعت آئی ہے وہاں کسی عارضہ سے ہے یا بمعنی خلاف اولیٰ ہے۔(مرقات واشعہ)