۱؎ اس طرح کہ اعمال لکھنے والے فرشتے بندوں کے ہفتہ بھر کے اعمال ان دو دنوں میں رب تعالٰی کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں۔خیال رہے کہ اعمال کا اٹھانا یعنی آسمانوں پر پہنچانا اور ہے اور رب تعالٰی کی بارگاہ میں پیشی کچھ اور،اعمال کا اٹھانا تو روزانہ چوبیس گھنٹے میں دوبار ہوتا ہے کہ دن کے اعمال رات سے پہلے،اور رات کے اعمال دن سے پہلے وہاں پہنچائے جاتے ہیں مگر پیشی ہفتہ میں دو بار لہذایہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں روزانہ دوبار اعمال اٹھانے کا ذکر ہے۔(مرقات)یا اس کے معنی یہ ہیں کہ اعمال لکھنے والے فرشتے اعمال نامے ان فرشتوں پر پیش کرتے ہیں جواعمال ناموں کی نقل اپنے رجسٹروں میں کرتے ہیں۔(اشعہ)تب تو یہ حدیث بالکل صاف ہے۔
۲؎ تاکہ روزے کی برکت سے رحمت الٰہی کا دریا جوش مارے۔خیال رہے کہ سال بھر کے اعمال کی تفصیلی پیشی شعبان میں ہوتی ہےکیونکہ وہ اﷲ کے ہاں سال کا آخری مہینہ ہے اور رمضان سال کا شروع مہینہ جیسے دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے۔غرضکہ فرشی سال اور ہے جس کی ابتداءمحرم سے انتہاء بقرعید پر،عرشی سال کچھ اور۔(ازمرقات)