| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں فرمایا مجھ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عبداﷲ کیا مجھے یہ خبر نہ ملی کہ تم ہمیشہ دن میں روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو ۱؎ میں نے عرض کیا ہاں یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ایسا نہ کرو روزہ بھی رکھو،افطاربھی کرو، قیام بھی کرو اور سوؤ بھی ۲؎ کیونکہ تم پر تمہارے جسم کا بھی حق ہے اور تم پر تمہاری آنکھو ں کا بھی حق ہے۳؎ اور تم پرتمہاری بیوی کا بھی حق ہے اورتم پر تمہارے ملاقاتی کا بھی حق ہے ۴؎ جس نے عمر بھر روزے رکھے اس نے روزے رکھے ہی نہیں ۵؎ ہر مہینہ تین روزے ساری عمر کے روزے ہیں ہر مہینہ میں تین روزے رکھو ۶؎ اور ہر مہینہ ایک قرآن ختم کرو ۷؎ میں نے عرض کیا کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں ۸؎ فرمایا تو تم بہترین روزے یعنی روزہ داؤد رکھو کہ ایک دن روزہ ایک دن افطار اور سات راتوں میں ایک قرآن ختم کرو اس سے زیادہ نہ کرو ۹؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ سوال انکاری ہے یعنی مجھے خبر ملی ہے کہ تم سوائے پانچ ممنوعہ دنوں کے باقی سال بھر مسلسل نفلی روزے رکھتے رہتے ہو اور رات کو عبادت کہ نہ دن میں کبھی افطارکرتے ہو نہ رات میں سوتے ہو۔ ۲؎ ورنہ تم اتنے کمزور ہوجاؤ گے کہ فرضی عبادتیں اور لوگوں کے شرعی حقوق ادا نہ کرسکو گے اور نفل کی وجہ سے فرض چھوڑنا یا فرض چھوٹنے کے اسباب پرعمل کرنا نہ عقلًا مناسب ہے نہ شرعًا۔خیال رہے کہ اس صورت میں یہ ممانعت تحریمی ہے،جو چیز فرائض چھڑا دے وہ حرام ہے۔ ۳؎ ہمیشہ روزہ رکھنے سے تمہارا جسم بہت کمزور ہوجائے گا اور بالکل نہ سونے سے نگاہ کمزور پڑجانے کا خطرہ ہے۔ ۴؎ اور ہمیشہ روزہ رکھنے اور شبِ بیداری کرنے سے تم کما نہ سکو گے اور بیوی کو منہ نہ لگاؤ گے،ملاقاتی لوگ اور مہمان چاہتے ہیں کہ تم ان کے ساتھ کھاؤ پیو اور رات کو دو گھڑی ان سے بات چیت کرو،تم یہ بھی نہ کرسکو گے۔ان جملوں سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ روزے رکھنے کی ممانعت ہم جیسے لوگوں کے لیے ہے جو تمام حقوق چھوڑ بیٹھیں۔جن کے لیے ہمیشہ کا روزہ اور رات بھر کا جاگنا مذکورہ حقوق سے آڑ نہ ہو ان کے لیے اس میں حرج نہیں مگر ایسے بہادر لوگ لاکھوں میں ایک آدھ ہیں،جیسے حضرت طلحہ وغیرہ صحابہ میں اور امام ابوحنیفہ تابعین میں۔ ۵؎ یعنی کامل روزے نہ رکھے جس سے پورا ثواب ملے۔ہماری پہلی شرح سے معلوم ہوچکا کہ یہاں مَنْ سے مراد وہ عام مسلمین ہیں جو دن میں عبادتوں میں مشغول ہوکر باقی حقوق ادا نہ کرسکیں۔ ۶؎ کیونکہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے تو ہر مہینہ میں تین روزوں کا ثواب پورے مہینہ کے روزوں کا ہوگا،بہتر یہ ہے کہ یہ تین روزے چاند کی ۱۳،۱۴،۱۵ کو رکھے جائیں۔ ۷؎ یہ جملہ قرآن کریم کے تیس پارے بنانے کی اصل ہے،زمانہ نبوی میں قرآن کریم کی تقسیم سورتوں اور منزلوں پرتھی رکوع اور پاروں پر نہ تھی،پھر خلافت عثمانیہ میں اس میں رکوع قائم کئے گئے کہ حضرت عثمان غنی تراویح کی رکعتوں میں جس قدر تلاوت کرکے رکوع فرماتے اس کا نام رکوع رکھا گیا اور حاشیہ پر ع کا نشان لگایا گیا تاکہ تراویح کا باقاعدہ رواج دینے والے جناب عمر اور اس رواج کو تمام دنیا میں پھیلانے والے حضرت عثمان کی طرف اشارہ ہو،تراویح روزانہ بیس رکعت ہوتی تھیں اور ستائیسویں شب کو ختم قرآن اس لیے قرآن کریم کے پانچ سو چالیس رکوع ہوئے،بہت عرصہ بعد قرآن کریم کے تیس پارے کئے گئے تاکہ روزانہ تلاوت کرنے والوں کو آسانی رہے کہ وہ اس حدیث پرعمل کرتے ہوئے ہرمہینہ ایک قرآن ختم کرلیا کریں۔ ۸؎ لہذا مجھے زیادہ عبادت کی اجازت دیجئے۔خیال رہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت سے ان کے لیے اتنے نوافل اور روزے ناجائز ہوگئے تھے اس لیے آپ خوشامدکرکے زیادہ کی اجازت حاصل کررہے ہیں۔اس سے جہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات خداداد معلوم ہوئے وہاں ہی صحابہ کا شوق عبادت بھی ظاہر ہوگیا،اﷲ ان بزرگوں کے طفیل ہمیں بھی عبادت کا شوق دے۔ ۹؎ کہ روزانہ فمی بشوق کی ترتیب پر ایک منزل پڑھو تاکہ ہفتہ میں ایک قرآن ختم ہو۔ابھی عرض کیا جاچکا کہ یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو حضرت عبداﷲ ابن عمرو جیسی طاقت رکھتے ہوں،ان سے کمزور مہینہ میں ختم کریں اور ان سے زیادہ قوی ہفتہ سے کم میں بھی ختم کرسکتے ہیں،ایک مہینہ میں بھی ختم نہ کرنا بڑی محرومی ہے۔