| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد سوم |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید و قربانی کے دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ نحر کے دن سے تشریق کے سارے دن مراد ہیں،چونکہ ان میں سے اکثر میں قربانی ہوتی ہے اس لیے تغلیبًا ان سب کو نحر کا دن فرمادیا،دسویں ذی الحجہ صرف قربانی کا دن ہے،گیارھویں بارھویں قربانی کا دن بھی ہے اور تشریق کا بھی اور تیرھویں صرف تشریق کا دن ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ سال میں پانچ دن روزہ رکھنا حرام ہے:یکم شوال اور دسویں،گیارھویں،بارھویں،تیرھویں ذی الحجہ۔ مسئلہ:جو شخص ان دنوں میں روزے کی نذر مان لے تو دوسرے اماموں کے ہاں وہ نذر ہی درست نہیں اور امام اعظم کے ہاں نذرصحیح ہے مگر اس کی قضاء واجب۔