۱؎ یعنی خاوند جب گھر پر ہو تو اس کی صریحی یا عرفی اجازت کے بغیر نہ نفلی روزے رکھے نہ نفلی اعتکاف کرے کیونکہ مرد کو دن میں صحبت کرنے کا حق ہے اور اس کا روزہ یا اعتکاف اس حق کو روک دے گا لہذا حق والے سے اجازت لے لے،اس حکم سے نذر منتیں اور رمضان کے روزے علیحدہ ہیں کہ وہ حق شرع ہیں۔اگر عورت نے بغیر خاوند کی اجازت نفلی روزہ رکھ لیا تو وہ اس سے تڑوا کر صحبت کرسکتا ہے جس کی قضا واجب ہوگی اسی لیے صاحب مشکوٰۃ یہ حدیث باب القضاء میں لائے۔فقیر کی اس تقریر سے بہت سے اعتراضات اٹھ گئے،حدیث واضح ہوگئی۔خیال رہے کہ عورت کو نفل نماز سے منع نہیں فرمایا گیا کیونکہ وہ تھوڑی دیر میں ہوجاتی ہے اس سے خاوند کا حق صحبت نہیں مارا جاتا۔
۲؎ یعنی خاوند کی ناراضگی پر کسی مرد و عورت،اجنبی یا قریبی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ خاوند عورت کو اس کے ماں باپ سے ملنے سے نہیں روک سکتا،ہاں انہیں اپنے گھر میں آنے سے روک سکتا ہے،عورت وہاں جاکر ملے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔